15 فیصد خصوصی الاؤنس نہ ملنے پر زکریا یونیورسٹی کی تینوں یونیز نے احتجاج کا اعلان کردیا

خصوصی الاؤنس نہ دینے کے معاملے پر حکومت کی سرد مہری نے زکریا یونیورسٹی میں ملازمین میں بے چینی پیدا کردی، اساتذہ سے لیکر چھوٹے ملازمین تک نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
اس سلسلے میں یونیورسٹی کی تین یونیز جن میں اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن ، آفیسرز ایسوسی ایشن ، اور ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا مشترکہ اجلاس ہوا ، جس میں ڈاکٹر محمد ریاض، فرح ارسلان صدیقی، رانا جنگ شیر، خیل احمد کھور، ملک صفدر حسین، رانا مدثر اور دیگر نے شرکت کی۔
جس میں شرکاء نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اسپیشل الاؤنس میں یونیورسٹی اساتذہ اور افسران کو شامل نہ کرنا قابل مذمت ہے ، اگر فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سول سوسز سرکاری ملازمین کے لیے 15 فیصد اسپیشل الاؤنس کا اجراء قابل تحسین ہے ، لیکن ان کے ساتھ یونیورسٹی اساتذہ اور ملازمین کو شامل نہ کرنا قابل مذمت ہے ۔
تاہم حکومت کو چاہیئے کہ یونیورسٹی اساتذہ، افسران اور ملازمین کیلئے بھی مذکورہ الاؤنس کے اجراء کا نوٹیفکیشن جلد از جلد جاری کرے۔
اگر اس نے اپنے اس اقدام پر نظر ثانی نہ کی تو اس ضمن میں ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ڈسپیرٹی الاؤنس کی مد میں گریڈ 20، 21 اور 22 کے یونیورسٹی اساتذہ اور افسران کو محروم رکھا گیا جس سے اساتذہ اور افسران میں اضطراب پایا جاتا ہے۔
حکومت کو چاہیئے کہ جلد از جلد مذکورہ دونوں الاؤنس جاری کرے ورنہ اساتذہ تنظیمیں احتجاج کا راستہ اپنانے پر مجبور ہونگی۔
ہم نے 23جولائی کو ہونے والی سنڈیکیٹ میں % 15 کا کیس رکھوا دیا ہے، امید کرتے ہیں کہ یونیورسٹی حکام ملازمین ، آفیسرز اور اساتذہ کا ساتھ دیں گے ورنہ احتجاج کا راستہ کھلا ہے ۔




















