ملتان : ویمن یونیورسٹی میں پرچم کشائی اور تقریب حلف برداری

ویمن یونیورسٹی ملتان میں جشن آزادی کی ڈائمنڈجوبلی کی تقریب منعقد ہوئی ،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے پرچم کشائی کی ، اور قومی ترانہ پڑھا گیا۔
مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان عطیہ خداوندی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا انمول تحفہ ہے جو مسلمانان برصغیر پر اللہ کا خاص انعام ہے ، پاکستان ہمارے آباؤ اجداد کی عظیم قربانیوں کا ثمر ہے ۔
نوجوان ہمارے ملک کی مجموعی آبادی کا 64 فیصد اور قیمتی اثاثہ ہیں ، پاکستان کی تعمیر و ترقی میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں قومی دھارے میں موثر شمولیت دے کر ذمہ داریاں سونپنے کی ضرورت ہے۔
آج اس ملک پاکستان کی خواتین بھی محترمہ فاطمہ جناح کی طرح میں تعلیمی اور فنی تربیت حاصل کر کے یہ طالبات اس ملک کے مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر رنگ و نسل سے بالا تر حقوق و رواداری کا درس دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین کی قربانی ہمیں سچائی اور حق کی راہ پر چلنے کی تلقین کرتی ہے ۔
ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ اس اگست میں میری سروس کو تین سال مکمل ہو گئے ہیں ، مجھے خوشی ہے کہ ویمن یونیورسٹی پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار باخوبی احسن نبھار ہی ہے، اس یونیورسٹی کی طالبات ہر شعبہ زندگی میں اپنی صلاحتیوں کو منوارہی ہیں۔
ہمیں اس آزادی کی قدر کرنا ہے اور اس ملک کو سنوارنا ہے اپنے حصے کی شمع جلانا ہے تاکہ اس وطن سے جہالت اور غربت کے اندھیرے دور ہوسکیں ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا لیاقت نے کہا کہ آزادی کسی قوم کا وہ بیش قیمتی سرمایہ افتخار ہوتا ہے، جو اس قوم کی زندگی اور اس کے تابناک مستقبل کا ضامن حیات ہوتا ہے۔
پاکستان قائد اعظم کی سیاسی تدبیر اور ان کے پہاڑ جیسے عزم کا زندہ معجزہ ہے۔
اس موقع پر سٹوڈنٹ کونسل کی حلف برداری کی تقریب کا انعقاد ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز نے کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کونسل کے طالبات سے حلف لیا
اس موقع پر طالبات نے آزادی کے حوالے سے ٹیبلو ، شاعری بھی پیش کی ، بعد ازں پوزیشن لینے والی طالبات میں انعامات تقسیم کئے گئے۔
اس موقع پر تمام شعبوں کی چیئرپرسنز اور انتظامی افسران بھی موجود تھے ۔
کیک کاٹنے کی تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔


















