کرپٹ مافیا و عناصر کی بدولت صحت کارڈ کے ثمرات براہ راست عوام تک نہیں پہنچ رہے : شہری حقوق کونسل جنوبی پنجاب
صحت کارڈ ایک انتہائی شاندار منصوبہ اور عام شہریوں بالخصوص مستحق مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے بہترین سہولت ہے لیکن سرکاری ہسپتالوں میں پہلے سے موجود کرپٹ مافیا و عناصر کی بدولت صحت کارڈ کے ثمرات براہ راست عوام تک نہیں پہنچ رہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس سلسلے میں منظم نظام قائم کرے جس کے تحت کسی امتیاز کے بغیر تمام شہریوں کو یہ سہولت آسانی سے دستیاب ہو۔ حکومت جہاں تعلیم، صحت اور قانون و انصاف کو عام شہری تک آسانیاں پیدا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے وہاں حکومت کو چاہیئے کہ وہ عام شہری کو صحت کی بہترین سہولتوں کیلئے اور غریب آدمی کو علاج و معالجہ کی مد میں تقسیم کئے گئے جن ہیلتھ کارڈز کا اجراء کیا گیا ہے اس سے غریب آدمی کو صحیح معنوں میں مستفید بھی کرے۔
حکومت اوروفاقی و صوبائی وزارت صحت باہم مل کرقانون سازی کریں کہ پرائیویٹ پریکٹس کرنیوالے ڈاکٹروں کی فیس پانچ سو یا سات سوروپے مقررکی جائے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بیٹھے مافیاز پندرہ سو سے دو ہزار روپے یا اس سے زائد تک فیس وصول کر رہے ہیں اور مریضوں کو مختلف ٹیسٹوں کی مد میں من پسند لیبارٹریوں اور ڈائیگناسٹک سنٹروں میں بھیج کرکے چالیس فیصد تک کا شئیر بھی وصول کرتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار شہری حقوق کونسل جنوبی پنجاب کے رہنماؤں احسان خان سدوزئی ، عرفان الحق حقانی ، فرحان الحق حقانی اور حاجی ناصر حسین ملک نے اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سماجی رہنماوّں نے کہا کہ صوبائی محکمہ صحت پنجاب نے کورونا ویکسینیشن لگانے کے لئے جو مثالی انتظامات کئے، اسکی مثال نہیں ملتی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہلیت و صلاحیت کی کمی نہیں۔ تاہم لازم ہے کہ اس محکمہ کو مافیا سے آزاد کرایا جائے۔ کرپشن کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ صحت کارڈ کے ذریعے عوام کو علاج کی جدید سہولیات میسر آئیں۔



















