زرعی یونیورسٹی میں فارمرز ٹریننگ ورکشاپ

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے ریسرچ سنٹر جلال پور پیر والا میں شعبہ فلاحت کے زیر اہتمام صاف کپاس کے حصول کے لیے زرعی اقدامات کے موضوع پر ورلڈ وائلڈ فنڈ کے تعاون سے فارمرز ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔
ورکشاپ کا آغاز جامعہ کی تحقیقاتی فارم کے دورے سے ہوا، جہاں شرکاء کو کپاس کی بحالی کے پروگرام اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی دی گئی۔
تقریبا 75 شرکاء کو کپاس کی چنائی، مربوط طریقہ انسداد اور دوست اور دشمن کیڑوں کی پہچان زرعی زہروں کے موثر استعمال اور فصل کو مون سون بارشوں سے بچانے کے حوالے سے اختراعی رجحانات اور جدید طریقوں کی تربیت دی گئی۔
ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شعبہ فلاحت ڈاکٹر عبدالغفار نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی ملتان فصلات کے زرعی مسائل کو ہمیشہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی روش پر قائم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے زرعی جامعہ کسانوں اور کاشتکاروں کی فلاح کے لئے ایک پلیٹ فارم کے طور پر ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔اس وقت کپاس چونکہ اپنے آخری مراحل میں ہے، اور کپاس کے اعلی معیار کا دارومدار زیادہ تر اس کی چنائی پر منحصر ہے اس لیے آلودگی سے پاک صاف چنائی اسے ذخیرہ کرنے اور اس کی ترسیل کے لیے ہرممکن حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
کپاس کی اچھی قیمت کے حصول کے لئے آلائشوں سے پاک صاف چنائی کے لئے میکنیزم بنایا جائے تاکہ صاف چنائی پر کاشتکاروں کو بہتر معاوضہ مل سکے۔
اس عمل سے صاف چنائی اور آلائشوں سے پاک کپاس کی پیداوار کو فروغ حاصل ہو سکے اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی روئی کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔
اس کے علاوہ چنائی کرنے والے مزدور کو اجرت کپاس کی صفائی اور ستھرائی کو مدنظر رکھ کر ادا کریں اور صرف مقدار کو اجرت کی کسوٹی نہ بنائیں۔
ڈاکٹر محمد اشتیاق انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ پروٹیکشن جامعہ زرعیہ ملتان نے کپاس کی زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے مربوط طریقہ انسداد کے اہم نکات اور جدید سفارشات کا احاطہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کپاس کی فصل میں جدت اپنا کر فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔مزید کہا کہ زرعی یونیورسٹی نے ریسرچ فارم پر جو کپاس لگائی ہے اس پر ابھی تک ایک سپرے ہوا ہے، اور یہ فصل بیماریوں سے بھی صاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ نباتاتی سپرے پی بی روپس اور فیرامون کے استعمال سے فصلوں پر کیمیائی اسپرے میں خاطر خواہ کمی رونما ہوئی ہے۔
آئی پی ایم طریقہ کار کی افادیت کی تصدیق کی اور کسانوں کو اس طریقہ کار کو اپنانے کی ترغیب دی۔اب وقت ہے کہ کسان کو غیر ضروری سپرے کے استعمال پر پیسے کے ضیاء سے روکا جائے، اور کسان دوست کیڑے کو پھیلنے کا موقع دیا جائے۔
یہی دوست کیڑے ان دشمن کیڑوں کے تدارک کا باعث بنتے ہیں جو ہماری فصل پر حملہ آور ہو کر نہ قابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مربوط طریقہ انسداد کسان کے مسائل کا مؤثر حل ہے۔
اس طریقہ سے نہ صرف ہم کپاس کی بحالی کو ممکن بلکہ ایک اچھی پیداوار کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر عمار مطلوب شعبہ فلاح جامعہ زرعیہ ملتان نے کہا کہ جڑی بوٹیاں کپاس کی فصل پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ان کی بروقت تلخی بہت ضروری ہے اس کے لیے کیمیائی اور غیر کیمیائی طریقوں کا مربوط استعمال ضروری ہے۔
ڈاکٹر مقرب علی نے کہا کہ پاکستان دنیا کے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں پیداوار کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہے، جبکہ روئی کی آلودگی کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے۔
کپاس چننے کا کام صبح 10 بجے شروع کیا جائے تاکہ کھلے ہوئے ٹنڈوں کی روئی میں شبنم والی نمی باقی نہ رہے۔کیونکہ خشک چنی ہوئی کپاس کا رنگ اور کوالٹی خراب نہیں ہوتی اور نہ میں نہ ہونے کی وجہ سے جننگ کے دوران مشکلات بھی نہیں آتی۔
چنائی ہمیشہ پودے کے نچلے حصے کے کھلے ہوئے ٹنڈوں سے شروع کریں اور بتدریج اوپر کو کرتے جائیں تاکہ نیچے کے کھلے ہوئے ٹنڈے خشک پتوں جڑوں یا کسی دوسری چیز کے گرنے سے محفوظ رہیں۔
چنائی تربیت یافتہ سپروائزروں کی نگرانی میں قطار بنا کر ایک طرف سے شروع کروائیں۔
کپاس کی آخری چنائی کی پھٹی پہلی بھٹی میں شامل نہ کریں تاکہ تمام بھٹی کا معیار نہ گر جائے۔چنائی کرنے والی عورتیں اپنے سروں کو سفید سوتی دوپٹوں سے ڈھانپ کر رکھیں۔کپاس کی مختلف اقسام کو علیحدہ علیحدہ رکھا جائے۔
فواد صفیان نمائندہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے ماحول کی پاسداری کو مدنظر رکھتے ہوئے کپاس کے حوالے سے جاری پراجیکٹ پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بہتر کپاس کے پیداواری نظام کے اجزاء اور اصولوں کا احاطہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پھٹی کو ہمیشہ خشک صاف اور ہوا دار گوداموں میں رکھنا چاہیے۔اگر پھٹی کے ڈھیر کھلے آسمان کے نیچے لگانے ہو تو بارش کی صورت میں ان کو پلاسٹک کور سے ڈھانپ دیں اور بارش ہونے کے بعد اتار دیں۔گیلی کپاس کی ہرگز چنائی نہ کریں کیونکہ ایسی کپاس اسٹور میں جا کر گرم ہو جاتی ہے۔
روئی کا رنگ بدل جاتا ہے اور بیج کا اگاؤ بھی متاثر ہوتا ہے۔ایک چنائی سے دوسری چنائی تک کم از کم 15 تا 20 دن کا وقفہ ہونا چاہیے۔
اس ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء کے سوالات کے جوابات دیئے گئے ۔
ڈاکٹر حافظ محکم نے اظہار تشکر کیا اور اس ورکشاپ کے تمام منتظمین اور اسپانسر کا شکریہ ادا کیا۔
ورکشاپ میں خطے کے کاشتکار حضرات پرائیویٹ کمپنیوں اور زرعی اداروں کے نمائندگان فیکلٹی اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔


















