Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسلام آباد کے کورس شرکاء کا سی سی آر آئی کا مطالعاتی دورہ

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسلام آباد کے 31 ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے13شرکاءنے آج گروپ لیڈر ڈاکٹر نائلہ جبین ڈائریکٹنگ اسٹاف نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسلام آباد کی سربراہی میں سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ملتان کا مطالعاتی دورہ کیا ۔

ڈائریکٹر سی سی آرآئی ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے نے شرکاءکو خوش آمدید کہتے ہوئے ادارہ کے اغراض ومقاصد اور یہاں پر ہونے والی کپاس کے میدان میں تحقیقاتی سرگرمیوں بارے انہیں تفصیل سے بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ملتان کو کپاس کے عالمی تحقیقی اداروں میں بلند مقام حاصل ہے، جو ہمارے زرعی سائنسدان اور عملہ کی محنت کا مرہون منت ہے۔

اس ادارہ میں کپاس پر ہونے والی تحقیق کا معیار عالمی سطح کا ہے، اور اس کے نتیجہ میں اب تک ادارہ کی جانب سے کپاس کی زیادہ پیداواری اور اعلی خصوصیات کی حامل 34باقسام جن میں 12کپاس کی بی ٹی اقسام ہیں، عام کاشت کے لیے کاشتکاروں کو دی جا چکی ہیں اور کپاس کی پتہ مروڑ بیماری پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، اور کپاس کے کاشتکاروں کو کم پانی اور زیادہ درجہ حرارت میں برداشت والی کپاس کی اقسام دی جا چکی ہیں ۔

ڈاکٹر زاہد محمود نے شرکاء کو بتایا کہ پنجاب سیڈ کونسل کی حالیہ ایکسپرٹ سب کمیٹی اجلاس میں ادارہ ہذا کی دو بی ٹی اقسام کی سفارشات کی منظوری دی جا چکی ہے۔

اس کے علاوہ شرکاءکو کپاس کی گلابی سنڈی کے انسداد کے لئے ادارہ ہذا کی تیار کردہ مشین پنک بول ورم مینیجر بارے بھی بتایا۔

ڈاکٹر زاہد محمودنے شرکاء کو کپاس کی ملکی معیشت میں اہمیت اور اس کے تاریخی پس منظر سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی کپاس ریشہ کی مضبوطی اور سفیدی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے ، اور اس کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے ، جس سے زیادہ زر مبادلہ حاصل ہوگا۔

گروپ لیڈر ڈاکٹر نائلہ جبین ڈائریکٹنگ اسٹاف نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسلام آبادنے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے دورے کا مقصد شرکاء کورس کی انتظامی امور کی ادائیگی میں مزید بہتری لانا ہے۔

وفد کے ارکان نے ادارہ ہذا میں کپاس پر ہونے والی عالمی معیار کی تحقیق کی تعریف کی، اور حاصل کی گئی کامیابیوں پر ادارہ کے زرعی سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں اعلی مقام دلا سکیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button