ویمن یونیورسٹی ملتان سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سکولوں کی بحالی کےلئے متحرک ہوگئی

حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقے کے سکولوں میں تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے اور سیلاب کی زد میں آنیوالے سکولوں کی بحالی کے لئے ہنگامی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیلاب سے تباہ ہونیوالے سکولوں میں کیمپ سکول قائم کئے جائیں گے۔
اس سلسلے میں وومن یونیورسٹی ملتان نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کیمپ سکول قائم کرنے میں معاونت کی پیش کش کردی ہے۔
یہ پیش کش وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب کیپٹن ر ثاقب ظفر سے ملاقات کے دوران کی۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب نے وائس چانسلر کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ، اور اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے تعلیم اولین اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سیلاب متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہے،اس سلسلے میں سیلاب سے تباہ ہونیوالے سکولوں میں سکول کیمپس لگائے جائیں گے اور سیلاب سے جن سکولوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے وہاں ہنگامی اقدامات کئے جائیں گے۔
کیپٹن ر ثاقب ظفر نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی آئی ہے اور حکومت سیلاب متاثرین کو دوبارہ آباد کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیلابی علاقے میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لئے سروے جاری ہے، اور اب تک کے ڈیٹا کے مطابق راجن پور ،ڈی جی خان، مظفرگڑھ اور لیہ کی152 یونین کونسلیں سیلاب سے متاثر ہوئی ہیں اور 7 لاکھ ایکڑ سے زائد فصلوں کو سیلاب سے نقصان پہنچا ہے۔
وائس چانسلر وومن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے اس موقع پر بتایا کہ وومن یونیورسٹی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے خاطرخواہ فنڈز اکھٹےکرلئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وومن یونیورسٹی کا وفد سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گا ، اور یونیورسٹی تباہ حال سکولوں میں کیمپ کلاسز کے لئے بھر پور مدد فراہم کرے گی۔
ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ ومن یونیورسٹی سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین کے مسائل کا بھی جائزہ لے گی، اور ان مسائل کے حل کے لئے تجاویز پر مبنی رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی۔


















