وفاقی بجٹ افسوسناک رویے اور پالیسی کا عکس ہے:اسلامی جمعیت طلبہ

ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے حمزہ محمد صدیقی ،حسن بلال ہاشمی ، دانیال عبداللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیم حکمرانوں کی ترجیح میں شامل نہیں ہے۔
وفاقی بجٹ افسوسناک رویے اور پالیسی کا عکس ہے۔ موجودہ حکومت کے گزشتہ تین سالوں میں تعلیمی بجٹ میں اضافے کے بجائے مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ محمد صدیقی نے کہا کہ انتظامی امور اور تنخواہوں کے بجٹ میں مسلسل کمی ہوئی ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ کٹوتیوں سے جامعات کے مالی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ یونیورسٹیوں کی گرانٹ میں کمی کا نتیجہ فیسوں میں بے تحاشا اضافے کی صورت میں نکلا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات شدید مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ متوسط طبقے کے طالب علموں کے لیے اپنا تعلیمی سلسلہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
گیلپ سروے نے اس کی تصدیق کی ہے، جس کے مطابق 75 فیصد طلبہ کے لیے تعلیم تک رسائی مشکل ہے۔ ناظم اعلی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوم کے مستقبل کے ساتھ سخت نا انصافی اور حکومتی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔
حمزہ محمد صدیقی نے کہا کہ HEC نے مالی سال 2020 – 21 کے لیے 104.789 بلین کا انتظامی بجٹ حکومت سے طلب کیا تھا، لیکن حکومت نے اس کی فراہمی میں پہلو تہی سے کام لیا۔ ناظم اعلی نے مطالبہ کیا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں ایچ ای سی کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے جائیں تاکہ جامعات کو مالی بحران سے نکالا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے طلبہ و طالبات کو ریلیف ملے گا۔ انھوں نے یونیورسٹیز میں ہاسٹلز اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر سہولیات بہتر بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
ناظم اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ سرکار کی جانب سے فنڈز کٹوتی، جامعات میں نشستوں کی کم تعداد اور داخلوں میں میرٹ کی پامالی کے باعث نجی جامعات کی من مانیاں جاری ہیں، حکومت پرائیویٹ یونیورسٹیز کی نگرانی کےلیے ایک اتھارٹی بنائی جائے۔
حمزہ محمد صدیقی نے کہا کہ این ایل ای ٹیسٹ کے اجراء کی صورت میں میڈیکل کے طلبہ کے لیے ڈگری کے بعد مزید ایک اور ٹیسٹ کا اضافہ اپنے تعلیمی اداروں پر عدم اعتماد ہے۔ حکومت یہ فیصلہ واپس لے۔
ناظم اعلی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے میڈیکل کالجز کی فیسوں کا تعین کیا تھا، لیکن پی ایم سی آرڈیننس کے ذریعے اس فیصلے کو تبدیل کر دیا گیا، جس سے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں میں بےتحاشا اضافہ ہوا۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ یہ اضافہ فوراً واپس لیا جائے، جبکہ دو لاکھ سے زائد فیس پر پانچ فیصد ٹیکس کا بھی خاتمہ کیا جائے۔



















