اسلامی جمعیت نے 17 نکاتی مطالبات پیش کردئے

حارث بلوچ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ ذکریا نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ واحد نمائندہ طلبہ تنظیم ہے ، جو طلبہ کو ان کے جائز حقوق دلوا کر رہے گی۔
طلبہ برادری اپنے حقوق کی جنگ جمعیت کے سنگ لڑے گی۔
وی سی جامعہ زکریا کو 17 نکات پر مشتمل مطالبات پیش کر دیے ہیں، جس میں حکومت کے اعلان کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں کے طلبہ کی فیس معاف کی جائے۔
ہاسٹل فیس کی نئی پالیسی کا اطلاق نئے آنے والے طلبہ (سیشن 2022) سے کیا جائے۔
سپلی فیس میں 500 روپے کے اضافے کو واپس لیا جائے۔
جب تک ہاسٹل میں میس سرکاری طور پر نہیں چلائے جاتے تب تک ہاسٹل فیس سے تمام میس چارجز ختم کیے جائیں، میس کی سہولت طلباء کو مہیا کی جائے۔
پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کو باقی جامعات کی طرح مارننگ میں شفٹ کیا جائے، اور فیسوں میں کمی کی جائے۔
ہاسٹل کی تمام سہولیات جیسا کہ دھوبی وغیرہ کو یقینی بنایا جائے، اور ان کے چارجز کو مخصوص کیا جائے۔
تمام شٹل سروس پہلے کی طرح بحال کی جائے، اور قاسم ہال کے اسکالرز کے لیے ایگری کلچر کالج تک شٹل سروس کا آغاز کیا جائے۔
سپورٹس کی مد میں ہر سمسٹر میں فیس لی جاتی ہے تو جمنزیم کی الگ سے رجسٹریشن فیس دوبارہ کیوں لی جاتی ہے، دوبارہ رجسٹریشن فیس کو ختم کیا جائے۔
ہاسٹلز کی انٹرنیٹ سروس کو ٹھیک کیا جائے، اور جن ہاسٹلز میں نہیں ہے وہاں بحال کی جائے۔
یونیورسٹی کی سڑکوں کی مرمت کی جائے، اور فلڈ لائٹس بحال کی جائیں۔
یونیورسٹی میں صفائی اور شجرکاری مہم کا آغاز کیا جائے۔
یونیورسٹی کی کینٹینوں کے ریٹس جو بہت زیادہ ہیں ان کو کمرشل مارکیٹ سے کم کیا جائے۔
ایڈمن کے اندر کرپشن عروج پر ہے ، جس کا سد باب کیا جائے۔
ایم فل کی تھیسیس، ٹرانسکرپٹ اور آخری سمسٹر کی فیس ختم کی جائے۔
یونیورسٹی کی سیکورٹی کی صورت حال کی بہتر کیا جائے، اور آؤٹ سائڈرز کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔
طلباء کا مخصوص یونیفارم لاگو کیا جائے، اور غیر مناسب لباس پر پابندی عائد کی جائے۔
کپلز جو کے بے حیائی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں، اُن کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، اور پابندی لگائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا جامعہ میں مافیا کا راج نظر آتا ہے، کینٹین پر مہنگے داموں اشیاء کی فراہمی انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ ذکریا وی سی جامعہ زکریہ کو متنبہ کرتی ہے کہ اگر طلباء کے یہ جائز مطالبات نہ مانے گئے تو ہم وی سی آفس کا گھراؤ بھی کرسکتے ہیں، اور یونیورسٹی کو مکمل بند کرنے پر غور بھی کر رہے ہیں۔
ہم امن پسند لوگ ہیں تعلیمی کلچر کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں ،چوبیس یا اڑتالیس گھنٹہ نہیں ایک ہفتہ کا وقت دیتے ہیں، جس کے بعد پریس کانفرنس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔



















