Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

کپاس کی گلابی سنڈی کے لئے پی بی روپس،مکینیکل بول پکر ٹیکنالوجی کا استعمال بہت مفید،ڈاکٹر زاہد

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں کپاس کی زیادہ پیداوار کے حصول اور بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں سے بچا ؤکے لیے خصوصی کوششیں کی جا رہی ہیں اور مختلف تحقیقی پروگرام پر کام ہو رہا ہے جبکہ کپاس کی گلابی سنڈی کے لئے پی بی روپس، مکینیکل بول پکر ٹیکنالوجی کا استعمال بہت مفید ثابت ہو رہا ہے۔
یہ بات ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود نے ادارہ ہذا میں منعقدہ محکمہ زراعت پنجاب کے 50سے زائد فیلڈ اسٹاف آفیسرز کے لئے ایک روزہ تربیتی پروگرام برائے "گلابی سنڈی کی مینجمنٹ”کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ ہذا کاشتکاروں کو درپیش چیلنجز کے حل کے لئے مختلف تحقیقاتی پروگرامز جاری رکھے ہوئے ہے اور گزشتہ سال کی طرح امسال بھی پنجاب کے تمام اضلاع میں سی سی آر آئی محکمہ زراعت توسیع پنجاب اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کے ساتھ ٹریننگ پروگرامز کی مشترکہ کوششوں کی بدولت گلابی سنڈی و دیگر کیڑے مکوڑوں کے حملہ کے کنٹرول میں اپنا اہم کردار ادا کرے گی جس کے نتیجے میں پیداوار میں بہتری آئے گی،سی سی آر آئی ملتان کی پوری کوشش ہے کے موجودہ سیزن میں بھی کپاس کی بھرپور پیداور حاصل ہو اور اس کے لئے اداہ ہذا کی جانب سے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

ایڈیشنل سیکریٹری زراعت برائے جنوبی پنجاب بارک اللہ خان نے شرکاء سے اپنے خطاب میں کاشتکاروں سے کہا کہ گلابی سنڈی اور دیگر کیڑے مکوڑوں کے چیلنجز سے نپٹنے کے لیے سی سی آر آئی کے زرعی سائنسدانوں کی خدمات قابل ستائش ہیں کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ پہلے 60دن کپاس کی فصل پر باالکل سپرے نہ کریں اور کسی جگہ سپرے ناگزیر ہو تو اس کے لئے فوری طور پر محکمہ زراعت پنجاب کے آفیسران سے رابطہ کریں اور ان کی سفارشات پر عمل کریں۔
سربراہ شعبہ حشریات سی سی آر آئی ملتان ڈاکٹر رابعہ سعید نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی اقتصادی ترقی میں کپاس کی جتنی اہمیت ہے اتنی ہی یہ حساس فصل بھی ہے اس فصل پر حملہ ہونے والے اور اس کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑوں کی تعداد دنیا کے کسی بھی کپاس پیدا کرنے والے ممالک سے زیادہ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button