بجٹ میں تعلیم کہیں بھی حکومتی ترجیح میں نظر نہیں آئی:اسلامی جمعیت
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب جنوبی سعد سعید نے کہاہے کہ بجٹ میں تعلیم کہیں بھی حکومتی ترجیح میں نظر نہیں آئی اقتدار میں آنے سے پہلے تعلیم سے قومیں بنتی کا نعرہ لگایا لیکن افسوس حکومت ملنے کے بعد اپنا نعرہ بھول گئے۔انتظامی امور اور تنخواہوں کے بجٹ کے لیے سال 2021 – 22 کے صرف 66 ارب مختص کیے گئے۔ 138 جامعات اور 92 کیمپس کے لیے یہ انتہائی کم بجٹ ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ کے لیے صرف 42 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ سال 2018-19 کے بجٹ کے مقابلے میں 4 ارب کم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بجٹ کٹوتیوں سے جامعات کے مالی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ یونیورسٹیوں کی گرانٹ میں کمی کا نتیجہ فیسوں میں بے تحاشا اضافے کی صورت میں نکلے گا، جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات شدید مشکلات کا شکار ہوں گے ۔ متوسط طبقے کے طالب علموں کے لیے اپنا تعلیمی سلسلہ برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔انہوں نے مزید نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے سال 2021- 22 کے لیے 150 بلین کا انتظامی بجٹ حکومت سے طلب کیا تھا، لیکن حکومت نے اس کی فراہمی میں پہلوتہی سے کام لیا۔رواں مالی سال کے بجٹ میں ایچ ای سی کے لیے اضافی رقم مختص کرے تاکہ جامعات کو مالی بحران سے نکالا جا سکے۔



















