شہنشاہ غزل مہدی حسن کو ہم سے بچھڑے 9برس بیت گئے
تاہم وہ اپنے خوبصورت گیتوں کی وجہ سے آج بھی لوگوں کے دلوں پرراج کرتے ہیں۔

مہدی حسن کی نویں برسی کے موقع پر فنون لطیفہ تعلق رکھنے والی نامورشخصیات نے انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
نامور گلوکارہ ثریاملتانیکرنے کہا کہ وہ بلاشبہ شہنشاہ غزل تھے۔ مختلف محفلوں میں ان سے جب بھی ملاقات ہوئی انہوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔صدارتی ایوارڈ یافتہ صداکار اورنامور اداکارقیصر نقوی نے کہاکہ پاکستان آنے کے بعد مہدی حسن کو شدید مالی مشکلات کاسامنا کرناپڑا۔وہ چیچہ وطنی میں سائیکل مرمت بھی کرتے تھے۔انہوں نے کار اورٹریکٹر مکینک کی حیثیت سے بھی مزدوری کی، لیکن اس کے بعد ریڈیو پاکستان نے ہی انہیں سب سے پہلے 1952ء میں متعارف کروایا۔ ریڈیو کراچی کے سٹوڈیو ز میں ان کی ٹھمری نے ملک گیر شہرت حاصل کی اور پھروہ فلموں کی کامیابی کے ضامن سمجھے جانے لگے۔
ملتان آرٹس کونسل کے سابق ریذیڈنٹ ڈائریکٹر محمد علی واسطی نے کہاکہ ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مہدی حسن خان جیسے گلوکار کے گیتوں کا ایسا سرمایہ موجودہے جو کسی اور ملک کے پاس نہیں۔وہ پاکستان کافخر تھے اور اس سے بڑ ی بات کیا ہوگی کہ لتا منگیشکر جیسی عظیم گلوکارہ نے ان کے فن کااعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔


















