پاکستان میں قانون کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کےلئے10رکنی کمیٹی قائم

زکریا یونیورسٹی ایل ایل بی کیس کے بعد پاکستان میں قانون کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کےلئے پاکستان بار کونسل نے 10 رکنی کمیٹی قائم کردی ۔
تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی ایل ایل بی کیس منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان بار کونسل کے ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن نے پاکستان بھر میں قانون کی تعلیم کوبہتر بنانے کافیصلہ کیا ہے ، اور ایک 10 رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔
جو قانون کی تعلیم کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کےلئے تجاویز دے گی ، اور ان کے نفاذ کےلئے اقدامات کرے گی ۔
اس کمیٹی میں قائد اعظم یونیورسٹی کے ڈائریکٹر لا پروگرام ڈاکٹر عزیز الرحمان ، اسلامک یونیورسٹی کے ڈاکٹر عطااللہ وٹو، لمز کی ڈاکٹر صدف عزیز ، یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کی ڈاکٹر حادیہ اعوان ، کنیرڈ کالج یونیورسٹی کی مسز عائشہ جاوید، کراچی یونیورسٹی کے جسٹس حسن فیروز، بلوچستان یونیورسٹی کے ڈاکٹر سمیع اللہ ، یونیورسٹی آف پشاور کے ڈاکٹر سہیل شہزاد، ایچ ای سی کے ڈی جی کوالٹی انہاسمنٹ ڈاکٹر ناصر علی شاہ، اور پاکستان بار کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل ایجوکیشن ثاقب فراز رانا شامل ہیں ۔
کمیٹی کے جاری ایس او پیز کے مطابق کمیٹی قانون کی تعلیم کو اپ لفٹ کرنے کے تجاویز دے گی،ایل ایل بی 5سالہ پروگرام کے نصاب میں تبدیلیاں ، جدید تقاضوں سے ہم آھنگ کرنے کےلئے اقدامات کرے گی۔
کمیٹی پاکستان میں دی جانےوا لی قانون کی تعلیم میں موجود خربیوں، نصاب کی تجدید اور تدریس کی خامیوں بارے مکمل رپورٹ مرتب کرے گی، کمیٹی یہ ٹاسک دو ماہ میں پورے کرے گی ۔




















