Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

سکالر ناہید انور کی پی ایچ ڈی مکمل، ڈاکٹر بن گئیں

ویمن یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اور پاکستان سٹڈی کی پی ایچ ڈی سکالر ناہید انورکا پبلک ڈیفنس ہوا ، ان کے مقالے کا عنوان’’سرسید بطور ایک منتظم او ر سرپرست‘‘ تھا۔

سپروائزر زکریا یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشیدخان جبکہ ایکسٹرنل سپروائزر ڈاکٹر ریاض تھے ۔

چیئرپرسن ڈاکٹر فاطمہ نے اس موقع پر کہا کہ سر سید احمد خان کا شمار ہندوستان کی ان معتبر اور عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے۔

جنہوں نے تعلیم، سیاست، مذہب، ادب، معاشرت، صحافت میں بڑے بڑے کار نامے انجام دے کر ہماری تاریخ میں لافانی نقش قدم چھوڑے ، اور زندگی کے ہر شعبۂ جات میںہماری رہنمائی اور رہبری کی ہے۔

ایک رہنما کی حیثیت وہ ایک بہترین منتظم بھی تھے ، انہوں نے جو ادارے قائم کئے وہ ان کے ڈسپلن کا منہ بولتا ثبوت تھے ۔

سر سید احمد خان نے جب قوم کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی تو سب سے پہلے وہ اس فکر میں مبتلا ہوئے کہ کس طرح ظالم انگریزوں کے دلوں سے مظلوم مسلمانوں کے لیے نفرت کو دور کیا جائے ۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے انھوں نے ’’ انگریزی تعلیم پر زور دیا اور مسلمانوں کو انگریزی تعلیم حاصل کرنا ضروری بتایا۔ یہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے انھوں نے خود کئی کتابیں لکھنے کے ساتھ ساتھ ادبی انجمنوں کا افتتاح بھی کیا۔’’

سر سید کے انگلستان جانے کا ایک مقصد وہاں کے تعلیمی اداروں کا مطالعہ کرنا اور ہندوستان میں اس طرز کا ایک کالج قائم کرنا تھا ۔

چنانچہ واپس آنے کے بعد انھوں نے علی گڑھ میں ایک کالج ’’ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج‘‘ کے نام سے قائم کیا۔

ساینٹفک سوسائیٹی سر سید کا ایک اہم کار نامہ ہے جس کا مقصد مشرق و مغرب کے نمائندہ مصنفین اور اہل قلم کی عمدہ کتابوں کو اردو میں منتقل کرنا تھا تاکہ ظالم اور مظلوم کو ایک دوسرے کے علوم و فنون کی اہمیت کا اندازہ ہوویمن یونیورسٹی نے سرسید کی ہمہ گیر شخصیت کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ریسرچ کرانے کافیصلہ کیا تھا ، تقریب میں سکالر کو کامیاب ڈیفنس کے بعد پی ایچ ڈی کی ٖڈگری تفویض کرنے کی سفارش کی گئی۔

اس موقع پر کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر حنا علی اور اساتذہ بھی موجود تھیں

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button