Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

پاور ڈویژن کے دوگنی تنخواہیں اور اضافی الاؤنسز لینے والے سینکڑوں افسران اور بیوروکریسی میں ایکا

مراعات و نوازشات برقرارکھنے کے لئے حکومتی پالیسی کو ناکام بنانے کی بھرپورکوششیں شروع

ملک بھر کے پاور سیکٹرمیں دوگنی تنخواہیں اور اضافی الاؤنسز لینے والے سینکڑوں افسران اور بیوروکریسی میں ایکا ہوگیا۔ بیوروکریسی کی سرپرستی میں نوازشات برقراررکھنے کے لئے حکومتی پالیسی کو ناکام بنانے کی کوششیں شروع کردی گئیں۔ پاور ڈویژن نے وزیر اعظم کے نوٹس لینے کے بعد افسران کو واپس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں بھیجنے، اضافی تنخواہیں ختم کرنے اورخزانے کو بھاری نقصان پہنچانے والے بیوروکریٹس اور افسران کے خلاف کاروائی کے احکامات بھی ہوا میں اُڑادئیے۔ذرائع کے مطابق ملتان سمیت ملک بھر کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت پورے پاور سیکٹر میں دوسری کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے افسران کو واپس کمپنیوں میں بھیجنے اور اضافی تنخواہیں بندکرنے کے خلاف بیوروکریسی اور بجلی کمپنیوں کے سینکڑوں افسران میں ایکاہوگیاہے جنہوں نے بھاری دوگنی تنخواہیں اور اضافی الاؤنسز کی

بشکریہ گوگل

کردی ہیں۔ وفاقی حکومت نے حال ہی میں پاکستان الیکٹرک پاورکمپنی (پیپکو) کو ختم کرکے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو خود مختار بنانے کا فیصلہ کیاتھا اور پیپکو کے ایڈمنسٹریشن کے تمام معاملات بجلی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سپرد کرنے کے احکامات جاری کردئیے تھے۔ اعلیٰ حکومتی حلقوں میں اس فیصلے کی تیاری شروع ہوتے ہی سابقہ منیجنگ ڈائریکٹر پیپکو عمر رسول اور جنرل منیجر ہیومن ریسورس پیپکو صغیراحمد نے پیپکو کو کسی نہ کسی شکل میں قائم رکھنے کے لئے ایک نیا منصوبہ بنایاجس کے تحت ”منیجنگ ایجنٹ“ کا تصور متعارف کروایا۔ منیجنگ ایجنٹ کا تصور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متصادم تھا تاہم کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر دباؤ ڈال کر ”منیجنگ ایجنٹ“کو منظور کروانے کی کوششیں بھی کی گئیں جو سابق سیکرٹری پاور ڈویژن اور منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدوں سے فارغ کئے جانے اور نئے وفاقی سیکرٹری پاور ڈویژن علی رضا بھٹہ کی تعیناتی سے دم توڑگئیں اور کمپنیوں کو خود مختار بناکر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے قوانین کے تابع کرنے کا فیصلہ کیاگیا اور بجلی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو فوری طورپر پیپکو کی جانب سے کئے جانے والے فیصلے واپس لینے، دوسری کمپنیوں کے گریڈ19تاگریڈ21کے سینکڑوں افسران کو واپس ان کی کمپنیوں میں بھیجنے، قومی خزانے کو نقصان پہنچاکر کروڑوں روپے اضافی الاؤنسز اور مراعات کی مد میں دئیے جانے کی پالیسی کو مبینہ طورپر منظور کرنے والے بیوروکریٹس اور افسران کے خلاف کاروائی کرنیکے احکامات دئیے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہناہے کہ ملتان سمیت ملک بھر کی بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کو ایس ای سی پی کے قوانین کے تابع کرنے کے لئے حکومتی پالیسی پر تیزی سے کام شروع کردیاگیااور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نوٹس میں آنے معاملہ آنے پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے افسران کو نوازنے اور بے اندازاََ مراعات اور دوگنی تنخواہیں لینے کی پالیسی کو تیزی سے ختم کرنے اور پیپکو کے ایڈمنسٹریشن کے تمام معاملات واپس بجلی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو دینے کے احکامات جاری ہوئے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے خزانے پر بھاری بوجھ بننے والے افسران کی اپنی، اپنی کمپنیوں میں واپسی اور اضافی الاؤنسز، دوگنی تنخواہیں بندکرنے کے لئے پاکستان الیکٹرک پاورکمپنی (پیپکو) نے گزشتہ ماہ کے دوسرے ہفتے میں ایک روڈ میپ بناکر بجلی کمپنیوں کو ارسال کیا اور اس پر 26مارچ2021ء تک تجاویز طلب کیں۔ اگر کسی کمپنی کی جانب سے تجاویز وصول نہ ہوئیں تو روڈمیپ کو حتمی سمجھاجائیگا اور اس پر عملدر آمد شروع ہوجائیگا۔ ذرائع کا کہناہے کہ اس پالیسی کے تحت پیپکو سے اپنی پیرنٹ کمپنی این ٹی ڈی سی کے درجنوں افسران کو فارغ کرکے این ٹی ڈی سی واپس بھجوایاگیا۔ اب پیپکو حکام اپنی بقاء کے لئے دوبارہ سے ”منیجنگ ایجنٹ“کے منصوبے کو فعال کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ دوسری جانب افسران کی مراعات اور دوگنی تنخواہوں کو جاری رکھنے کے لئے دوسری بجلی کمپنیوں میں واپسی کے لئے روڈمیپ پر عملدرآمد مختلف وجوہات کی آڑ بناکر مبینہ طورپر روکاجارہاہے جس سے وزیر اعظم عمران خان کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہورہی ہے اور جان بوجھ کر بجلی کمپنیوں کو بھاری نقصان پہنچاکر نجکاری کی جانب دھکیلاجارہاہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button