ویمن یونیورسٹی میں انتہا پسندی پر ہونے والی لیکچرز سیریز اختتام پذیر ہوگئی
ویمن یونیورسٹی ملتان میں سماجی تنظیم کے تعاون سے انتہاپسندی کے خاتمے میں خواتین کے قائدانہ کردار کے حوالے سے ہونے والی لیکچرز سیریز اختتام پذیر ہوگئی۔
جس میں ملک بھر سے ممتاز سیپکرز نے شرکت کی جو طلبا وطالبات کا حوصلہ بڑھانے کے حوالے جانے جاتے ہیں ، جن میں مناہل اسلم ، کامران رضوی، نویرا فہد،نورینا شمس،فلیزا ممتاز،زاہدخان، ثمینہ عدنان،شائشہ بخاری ، احمد دانیال شامل تھے۔
8 روز جاری رہنے والی سیریز میں مقررین نے طالبات کو تشدد انتہا پسندی کے خاتمے اور متاثر کن قیادت کے لئے سماجی ثقافتی سرگرمیوں کی اہمیت کے حوالے سے آگاہ کیا۔
ان سیریز کا اہتمام ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیرء پروفیسر نائلہ امتیاز کی نگرانی میں کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا کہنا تھا کہ ویمن یونیورسٹی اپنی طالبات کو ایک پرامن اورکارآمد شہری بنانے چاہتی ہے اس لئے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی کردارسازی کے موقع بھی دئے جاتے ہیں، ملک بھر سے آئے مقررین نے طالبات کو جو درس دیا اس کےدور رس نتائج سامنے آئیں گے ، ان لیکچرز کے انعقاد کا مقصدطالبات کو ان رویوں سے آشنا کرنا ہے کہ معاشرے کا باشعور طبقہ بھی انتہا پسندی ، تخریب کاری اور شدت پسندی کی جانب مائل ہو رہاہے ۔
شدت پسندوں نے بھی اس کی ترویج کیلئے جامعات اور پڑھے لکھے طبقے کا رخ کیا ، یونیورسٹیوں میں بڑھتی ہوئی اس تعلیم یافتہ انتہا پسندی کو روکنے کیلئے سنجیدگی سے خاطر خواہ اقدا مات کئے جارہے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ ہر سطح پر تحمل اور برداشت کو فروغ دینے کیلئے نصاب میں اخلاقی اور مثبت سماجی اور معاشرتی اقدار کوحصہ بنا کر طلبہ و طالبات کے مابین ایک بھر پور مباحثے اور مکالمے کے کلچر کو فروغ دیا جانا چاہئے، خطبہ حجتہ الوداع امن کا بہترین چارٹر ہے جسے نصاب کا حصہ بنا کر سلامتی کا پیغام عام کیا جاسکتا ہے، اساتذہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلبا کو اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں ،ڈگری کے حصول کی ہو س نے ڈگری یافتہ تو سینکڑوں پیدا کئے مگر تعلیم یافتہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، معاشرے اور جامعات میں قیام امن کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہوں گے جن میں سوک ایجوکیشن اور سماجی علوم کی ترویج، طلبہ میں نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں کا فروغ ، امن رواداری کے حوالے سے جامعات کی سطح پر لازمی کورس، کتاب بینی کے کلچرکا فروغ ،نصاب میں ضروری تبدیلیاں ، طلبا میں مباحثے اور مکالمے کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے طلباسو سائٹیز کا قیام ضروری ہے، اگر ہم اپنے معاشرے سے انتہا پسندی اور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں ترجیحی بنیادوں پر کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام اور نصاب کو ازسرنو مرتب کرنا ہوگا اس میں ایسے اسباق اور ابواب شامل کرنا ہوں گی جن سے انتہا پسندی کے خاتمے میں معاونت مل سکے۔
اس کے علاوہ ہمیں اپنے دینی مدارس میں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہاں کسی قسم کی انتہا پسندی اور شدت پسندی کی تعلیم نہ دی جا سکے بلکہ اسلام کے امن اور رواداری کے پیغام کو عام کیا جائے۔



















