سارہ مجید کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کرنے کی سفارش

ویمن یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی پی ایچ ڈی کی اسکالر سارہ مجید کو کامیاب مجلسی دفاع کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کی سفارش کردی گئی۔
اس سلسلے میں مجلسی دفاع کی تقریب کچہری کیمپس میں منعقد ہوئی، مجلسی دفاع میں سکالر سارہ مجید نے اپنے مقالے ’’خالدہ حسین کی نثر کے فکری اور جمالیاتی امتیازات‘‘ کا دفاع کرتے ہوئے حاضرین کے سوالوں کے تشفی بخش جوابات دئے ۔
انہوں نے کہا کہ خالدہ حسین ممتاز ترین خاتون فکشن نویس، وجودی مسائل پر علامتی انداز کی کہانیاں لکھنے کے لیے معروف ’کاغذی گھاٹ‘ کے نام سے ایک ناول بھی تحریرکیا۔
خالدہ حسین نے اپنے افسانوں میں پورے تحمل، احتیاط اور بے رحمی سے ان امتیازات کو اکھاڑ پھینکا ہے۔
وہ بہت سے تجرباتی لکھاریوں کے برعکس، محض سیاسی مباحث کے مشمولات کی صوری اور صوتی بغاوتوں کے ساتھ آمیزشیں نہیں بناتی وہ اپنی ان بغاوتوں کی جمالیاتی قوت کو عین اس سیاسی کی جڑ پر آزماتی ہیں۔
خالدہ حسین کی عظمت یہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی تفتیشات کو اپنے کرداروں کی مخصوص، روزمرہ زندگیوں میں جاگزیں دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
خالدہ حسین کی انفرادیت وجودیت ہے وہ اپنے افسانوں میں اپنی ذات کا سفر طے کرتی ہیں حکومت پاکستان نے ان کو تمغہ امتیاز سے نوازا ۔
انہوں نے اپنا تحقیقی کام ڈاکٹر عذرا لیاقت کی نگرانی میں مکمل کیا اور بیرونی سپروائزر ڈاکٹر محمد الطاف یوسفزئی تھے۔
اس موقع پر ڈاکٹر عذرا لیاقت( چیئرپرسن شعبہ اردو) کا کہنا تھا کہ ویمن یونیورسٹی میں معیاری ریسرچ ہورہی ہے خوشی ہے کہ ماضی کے نمایاں شخصیات اوران کے کارناموں پر کام کیا جارہا ہے، مستقبل میں معیاری ریسرچ جاری رہے گی۔
اس موقع پر اساتذہ اور طالبات بھی موجود تھے۔



















