ڈی رپورٹرز ایکسکلوزیو! پاکستان میں کورونا کے کنٹرول کرنے میں سازشی عناصر بڑی رکاوٹ بنے رہے:زکریا یونیورسٹی میں ہونے والی ریسرچ میں انکشاف
زکریا یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی پریکٹس میں کورونا پر ہونےوالی ریسرچ کی عالمی سطح پر پذیرائی ہورہی ہے اور اس نے دنیا کوگروید کرلیا، اس ریسرچ میں ایسے عام سوالات پر سروے کیا گیا جو زبان زدعام تھے۔
ڈاکٹر فواد رسول کی سربراہی میں ہونے والی ریسر چ کو فوراً ایک بین الاقوامی مشہور جریدے ویکسینز شائع کردیا ۔
سروے میں ویکسین سے متعلق سازشوں ، قبولیت ، ترجیح ، اور پاکستان کی عام آبادی کے درمیان ادائیگی کرنے کی آمادگی کا جائزہ لیا گیا۔
اس ریسرچ کے حوالے سے ڈاکٹر محمد فواد رسول چیئرمین شعبہ فارمیسی پریکٹس نے بتایا کہ جنوری 2021 کے دوران ایک آن لائن سوالنامے کے ذریعہ ایک کراس سیکشنل مطالعہ کیا گیا تھا۔ کوویڈ 19 ویکسین کے حوالے سے چل رہی سازشوں پر 28.4 فیصد شرکاء نے یقین کیا۔ ان میں سے 48.2٪ نے کہا کہ وہ اس کی دستیابی پر ویکسین لگائیں گے۔ 43.3٪ نے چینی ویکسین کو اپنی ترجیح کے طور پر رپورٹ کیا۔
اس مطالعے کے نتائج سے کورونا ویکسین کے بارے میں ایسے سازشی عناصر کا بھی انکشاف ہوا ہے جس سے پاکستان کے عام عوام میں متاثر تھے ۔ یہ عقائد پاکستان میں کورونا کے کنٹرول کے لئے آئندہ حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو ایک بڑا خطرہ لاحق ہیں۔محکمہ صحت اور پالیسی سازوں کو ٹیکوں کی حفاظت اور افادیت سے متعلق عوامی تعلیم کے ذریعے اس گمراہ کن معلومات سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات کرنے چاہیں اس ریسرچ میں بات بھی سامنے آئی کہ عام لوگوں میں سازشی عقائد پھیلانے کے لئے بنیادی طور پر سوشل میڈیا ذمہ دار تھا۔اس لئے ہم نے تجویز کیا گیا ہے کہ ریگولیٹری حکام ایسے سازشی عقائد کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ یہ قومی سطح پر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے ویکسین کی حفاظت اور آسانی سے بچاؤ کے پیغامات کی حمایت کرتے ہوئے کیا جاسکتا ہے۔
اس ریسرچ میں ڈاکٹر محمد فواد رسول کے ساتھ ڈین فیکلٹی آف فارمیسی ڈاکٹر محمد عزیر ، ڈاکٹرعمران چیئرمین شعبہ فارماسولوجی ، ڈاکٹر مقبرب اکبر چیئرمین شعبہ برائے پولیٹیکل سائنس ، ڈاکٹر محمد عمر چوہدری ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز نے ساتھ دیا۔




















