اسلام آباد میں جاری مینگو فیسٹول ختم ہوگیا

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ چوتھا سالانہ مینگو فیسٹیول2021اختتام پذیر ہو گیا۔
مینگو فیسٹیول میں 160سے زائد آم کی اقسا م نمائش میں رکھی گئیں جبکہ فارمز، پراگریسیو گرورز اور ایکسپورٹرز اپنے آم کے سٹالز 5تاریخ تک سینٹورس مال میں لگائے گیں۔
اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے خوراک اور تحقیق سید فخر امام شاہ، سردار یاسر الیا س خان اور وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز)تھے۔
دوروزہ مینگو فیسٹیول کے اختتام پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید فخر امام نے کہاکہ زرعی یونیوسٹی ملتان ہر سال مینگو فیسٹیول کا انعقاد منعقد کرواتی ہے جس کی وجہ سے آم کی دوسرے پھلوں کی نسبت ایکسپورٹ میں نمایاں اضافہ نظر آیا ہے۔ہمیں آم، سیب، کیلا، کھجور اور سبزیوں کی پیداوار حاصل کرنے کیلئے ہائی کراپ پروڈکشن ٹیکنالوجی پر عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چائنہ کے 4 لاکھ طالب علم امریکہ میں زیر تعلیم ہیں حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دشمن سمجھتے ہیں لیکن جب ٹیکنالوجی کی بات آئے تو ایک دوسرے کی دشمنی ختم کر دیتے ہیں۔ ہمیں میرٹ پر عمل کرنا چاہیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز)نے کہاکہ پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے جبکہ زرعی رقبہ کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کوالٹی اور مٹھاس پاکستانی آم میں ہے وہ دنیا میں اور کہیں بھی نہیں ہے۔چین میں 4 پاکستانی آم کی قیمت30ڈالر ہے۔حکومت اقدامات کر رہی ہے تاکہ پاکستانی آم کے کاشتکار زیادہ منافع حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہاکہ اس مینگو فیسٹیول کے توسط سے خطے کے آم کے باغبانوں اور کاشتکاروں کو مزید فائدہ حاصل ہو سکے گا اور ان کے آم کیلئے نئی منڈیاں اور نئے راستے کھل سکیں گے ۔
اس موقع پر ڈاکٹر عابد دحسین،ڈاکٹر کاشف رزاق، ڈاکٹر شہباز، آصف حیات ٹیپو سمیت سینٹورس مال کی انتظامیہ،زرعی یونیورسٹی ملتان کی دیگر فیکلٹی اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔




















