پاکستان کے لیگ اسپنرز ویسٹ انڈیز کے خلاف بہتر کارکردگی کے لیے پرعزم

ویسٹ انڈیز میں عموماََ پچز سلو ہوتی ہیں، جہاں وائیٹ بال کرکٹ میں اسپنرز کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیائی طرز کی یہ پچز لیگ اسپن کے لیے سازگار رہتی ہیں۔
قومی کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان کے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کیرئیر کا آغاز بھی اسی سرزمین سے ہوا۔ 26 مارچ 2017 کو برج ٹاؤن، بارباڈوس میں کھیلے گئے اپنے ڈیبیو میچ میں 7 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کرنے پر پلیئر آف دی میچ قرار پانے والے شاداب خان نے اگلے ہی میچ میں 14 رنز کے عوض 4 کیریبیئن کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر مسلسل دوسرا پلیئر آف دی میچ اپنے نام کیا۔
اسی طرح پاکستان کے ابھرتے ہوئے نوجوان لیگ اسپنر اور گگلی ماسٹر عبدالقادر مرحوم کے صاحبزادے عثمان قادر بھی اس سیریز میں موقع ملنے پر بہتر کارکردگی کے لیے پرعزم ہیں۔عثمان قادر نے 2008 میں ویسٹ انڈیز میں کھیلی گئی انڈر 15 چیمپئن شپ میں پاکستان انڈر 15 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوے8 میچز میں 17 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
پی سی بی ڈیجیٹل پر شاداب خان کا عثمان قادر سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرکے جیت کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔عثمان قادر نے بتایا کہ وہ قومی انڈر 15 کرکٹ ٹیم کے ہمراہ ویسٹ انڈیز کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس ٹیم میں بابراعظم اور محمد نواز بھی شامل تھے۔ برطانیہ میں نیٹ پر شاداب خان اور وہ زیادہ تر آف اسٹمپس کو ٹارگٹ کررہے تھے، تاہم یہاں گیند کو زیادہ دیر ہوا میں پھینک کر مڈل اینڈ آف اسٹمپ کو ٹارگٹ کرنا پڑے گا تاکہ گیند کو زیادہ اسپن مل سکے۔
ویسٹ انڈیز میں میچ کے دوران چلنے والی ہوا بھی گیند کوزیادہ اسپن ہونے میں معاونت کرتی ہے۔ میزبان ٹیم میں شامل دائیں ہاتھ کے بلے باز زیادہ تر ہارڈ ہٹنگ صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، لہٰذا انہیں اچھی اسپن سے زیر کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔


















