ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی کو بھتیجی اور اس کے شوہر کو ہراساں کرنے سے روک دیا

ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی کو پسند کی شادی کرنے والی بھتیجی اوراس کے شوہر کوہراساں کرنے سے روک دیا۔لاہورہائیکورٹ ملتان بنچ کے جج مسٹرجسٹس علی ضیاء باجوہ نے پسند کی شادی کے کیس کی سماعت کے دوران ڈی آئی جی لاہور راؤ منیر رضا سے استسفار کیا کہ آپ کس سلسلے میں موجود ہیں توانہوں نے کہاکہ مجھے نوٹس ملاہے تو فاضل جج نے عدالتی اہلکاروں سے استسفار کی اکہ عدالت کی طرف سے نوٹس جاری ہوا ہے، تو ڈی آئی جی نے ہاں میں جواب دیا مگر اہلکاروں نے اس کی بات کی تردید کی،اسی دوران ایک اور شخص نے عدالت کو بتایا کہ ڈی آئی جی دراصل پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کے چچاہیں، اور وہ مسلسل ہراساں کررہے ہیں، عدالت عالیہ نے ڈی آئی جی کی یقین دہانی پردرخواست نمٹادی کہ وہ آئندہ ہراساں کرنے سے بازرہیں گے۔
اس موقع پرلڑکی کے خلاف درج مقدمہ کے اخراج کی رپورٹ بھی جمع کرائی گئی،اخراج رپورٹ میں لڑکی کی رضامندی کابیان تحریر تھا،عدالت کے حکم کے بعد پٹیشنر عبدالاحد عدالت سے باہر نکلا تو باہر مخالفین کی موجودگی کے باعث خوفزدہ ہوکر عدالت واپس آگیا جسے کافی دیر بعد سیکیورٹی پولیس اہلکاروں نے گیٹ تک چھوڑا۔
قبل ازیں عدالت میں عبدالاحدنامی نوجوان نے ہراسمنٹ کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے ایف آئی اے کے اے ایس آئی محمد تنویر رضاکی بیٹی فائزہ تنویر سے رضامندی سے نکاح کیاہے، پولیس نے اس سمیت بھائی کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا ہے یہ شادی اس کی رضامندی سے کی ہے با اثر ہونے کی وجہ سے یہ افراد انہیں ہراساں اورپریشان کررہے ہیں، جنہیں اس اقدام سے باز رہنے کاحکم دیاجائے۔
اس پر پٹیشنرکی جانب سے کونسل چوہدری منظور نے کیس کی پیروی کی جبکہ ڈی آئی جی کی جانب سے سید اطہر شاہ بخاری اورملک خرم شہزاد پیش ہوئے، کیس کی سماعت کے موقع پرپولیس اہلکاروں نے ایک مشتبہ شخص کو عدالت کی ویڈیوبناتے ہوئے پکڑ لیا ، جو عدالتی کمرے میں بیٹھا ہوا موبائل فون سے ویڈیو بنا رہا تھا ،اور اہلکاروں کے پوچھنے پراس نے اپنا تعلق پولیس سے بتایا اور کہاکہ وہ ذاتی کیس کی وجہ سے ڈیوٹی پرموجود ہے اورافسران کے پیش ہونے کی ویڈیو بنا رہا ہے تاہم اہلکاروں کے کہنے پراس نے ویڈیوڈیلیٹ کردی اورکسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔



















