وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی کے سر پر ایک اور مصیبت منڈلانے لگی
میمونہ پوسٹ گریجوایٹ کالج اور ویمن یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر کا ریکارڈ مانگ لیا گیا۔
زکریا یونیورسٹی حکام سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت میمونہ پوسٹ گریجوایٹ کالج اور ان کی فیکلٹی میں شامل ویمن یونیورسٹی کی موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا ریکارڈ مانگ لیا گیا۔
حسیب نامی شخص نے رجسٹرار کے نام لکھے گئے مراسلے میں کہا ہے کہ میر ی سابق درخواست کے مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیاگیا، یونیورسٹی نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے جو کہ غیر تسلی بخش اور آر ٹی آئی قانون کی روح کے خلاف ہے، لہذا میمونہ پوسٹ گریجوایٹ کالج کے ابتدائی الحاق بندش کی درست تاریخ فراہم کی جائے اور دستاویزات بھی فراہم کی جائیں ۔
سرکاری سرٹیفیکیشن کے ساتھ پہلے الحاق سے بند ہونے تک الحاق شدہ پروگراموں کی محکمانہ فہرست فراہم کی جائے، ریکارڈ میں خاص طور پر 2007 اور 2012 کے درمیان فرق موجود ہے۔
بی زیڈ یو کی زیادہ سے زیادہ تین سال کے لیے الحاق کی توسیع جاری کرنے کی معیاری پالیسی موجودہ ہے مگر اس حوالے سے کوئی مراسلہ نہیں دیاگیا۔
ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی سروس کی صحیح مدت فراہم کی جائے، وہ کب تک وہاں پڑھاتی رہیں، ریکارڈ میں دستیاب فیکلٹی فہرستوں سے ان کی جوائننگ اور چھوڑنے کی تاریخ فراہم کی جائے، اس معلومات کی باضابطہ تصدیق ہونی چاہیے اور عملے کے مبہم بیانات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
الحاق کے خطوط 1998 سے 2019 تک فراہم کیے جائیں گے، خاص طور پر 2007-2012 کی مدت کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
اس تمام معلومات کو سرکاری طور پر تصدیق کرکے فراہم کیا جائے، معلومات کے حق کے قانون کے تحت تعمیل، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے ۔



















