Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی : سلیکشن بورڈ پر اساتذہ کے تحفظات، کل سے احتجاج کا اعلان کردیا

زکریا یونیورسٹی کے ٹیچرز اپنے مطالبات کےلئے میدان میں نکل آئے، دو ہفتے قبل ہونے والے سلیکشن بورڈ پر یونیورسٹی کے اساتذہ کو تحفظات تھے، جس میں ٹی ٹی ایس کے اساتذہ کو نظر انداز کر دیا گیا تھا، سینئر اساتذہ کو بھی ترقیاں نہ دی گئی۔

جس پر گزشتہ دو ہفتوں سے پر امن احتجاج کا سلسلہ جاری تھا مگر رجسٹرار کی طرف سے یقین دہانی کے باوجود ریلیف نہ ملنے پر دوبارہ احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ۔

اساتذہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے زکریا یونیورسٹی انتظامیہ کو مسائل سے اگاہ کیا مگر انتظامیہ نے مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا، اس پر احتجاج کرنا مجبوری بن گئی ہے، ہم ان تمام فیکلٹی ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو پچھلے دو ہفتوں سے مسلسل اپنے حق کے لئے جدو جہد میں شامل رہے، ہم نے مجموعی طور پر اپنی اس جدوجہد سے یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ بات باور کروائی ہے کہ حالیہ دونوں سلیکشن بورڈ میں فیکلٹی ممبران کے ساتھ جو ظلم کیا گیا ہے اور یونیورسٹی اور نیشنل سلیکشن/پروموشن پالیسیز کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں۔

مجموعی طور یونیورسٹی فیکلٹی ممبران کی اکثریت نے حالیہ سلیکشن بورڈز پر سوال اٹھاتے ہوئے سلیکشن بورڈز کے فیصلوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے رجسٹرار نے اساتذہ کے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ احتجاج موخر کر دیں اور وائس چانسلر کی واپسی پر اس مسئلہ کو ہر صورت حل کیا جائے گا لیکن فیکلٹی ممبران وائس چانسلر سے ملاقات کے لئے پہنچے تو وائس چانسلر نے فیکلٹی ممبران سے ملاقات کے لئے یہ شرط لگا دی کہ ایک فیکلٹی ممبر اگر اس میٹنگ میں شریک نہ ہو تو باقی ممبران سے بات ہو سکتی ہے، جس پر اس فیکلٹی ممبر نے کہا کہ اسے کوئی اعتراض نہیں اگر اسے اس میٹنگ میں شامل نہ کیا جائے، لیکن جب کمیٹی روم میں پہنچنے پر باقی فیکلٹی ممبران کو اس بات کا پتہ چلا تو سب فیکلٹی ممبران نے کمیٹی روم سے واک آؤٹ کرتے ہوئے وائس چانسلر سے میٹنگ کا بائیکاٹ کر دیا۔

بعد ازاں صدر اے ایس اے پروفیسر ڈاکٹر عبد الستار ملک نے فیکلٹی ممبران سے میٹنگ میں فیکلٹی ممبران سے سلیکشن بورڈ میں ہونے والے ناروا سلوک اور بی پی ایس فیکلٹی ممبران خصوصا جن کو سیٹیں ہونے کے باوجود سلیکٹ نہیں کیا گیا، اور نئے سلیکشن بورڈ کا انعقاد کروانے کے حوالے سے وائس چانسلر کے ساتھ ملاقات کر کے فیکلٹی حقوق کا تحفظ کرنے کا یقین دلایا، جس پر احتجاج دو دن کے لئے موخر کر دیا ہے۔

اساتذہ کے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں کل یکم اگست سے احتجاجی تحریک چلائی جائے گی، جس کی ذمے داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button