Paid ad
Breaking Newsآپ کی تحریریںتازہ ترین

گریڈ اٹھارہ کی نا تجربہ کار خواتین اساتذہ کی بطور سی ای اوز تعیناتی ایک انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ | تحریر: رانا ولایت علی

لمحکمہ تعلیم سکولز پنجاب نے گزشتہ چھ ماہ سے ہائر گریڈ کی انتظامی آ سامیوں پر امتحان اور انٹرویو کا ڈھونگ رچا کر پنچاب کے مختلف اضلاع میں ڈی ای اوز سیکنڈری اور ڈی ای اوز ایلیمنٹری مردانہ و زنانہ کی گریڈ انیس کی پوسٹوں پر گریڈ اٹھارہ کے مرد و خواتین اساتذہ کو تعینات کیا تھا اور گریڈ اٹھارہ کی ڈپٹی ڈی ای او ز مردانہ و زمانہ کی پوسٹوں پر گریڈ سترہ کے مرد و خواتین اساتذہ کو تعینات کیا گیا ہے ۔

یہاں سوا پیدا ھوتا ھے کہ یہ جونیئر افسران اپنے سے سینئر سربراہان سکولز جن کے انیس اور بیس گریڈ ہیں ان پر کیسے حکم چلائیں گے ؟اور ان کو علم ہے کہ آ نے والے کل میں ان کے ما تحت ہو کر کام کرنا پڑے گا۔

محکمہ تعلیم سکولز نےآ ج سے ایک نیا کھیل شروع کردیا ہے کہ گریڈ اٹھارہ کی جونیئر خواتین اساتذہ کو چیف ایگزیکٹو آ فیسرز ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے عہدوں پر تعینات کرنا شروع کردیا ہے، اس کے بعد سکول سربراہان کی آ سامیوں پر ایسی تعیناتیاں کرنے کا منصوبہ پائپ لائن میں ہے۔

راقم محکمہ تعلیم سکولز سے ایک ریٹائرڈ آ فیسر ہے اور مجھے جو بات سمجھ آ ئی ھے وہ یہ ہے کہ آ ئندہ پرائیویٹ سیکٹر سے افراد تعینات کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے، ان متذکرہ تعینا تیوں سے تو بد انتظامی ھوگی اور پھر بری کارکردگی کو بنیاد بنا کر پرائیویٹ سیکٹر کے افراد تعینات کئے جائیں گے۔

پہلے ہی سے ایک بات کا واویلا کیا جا رہا ہے پرائیویٹ سکولز انتظا میہ نامناسب عمارات یعنی دڑبہ نما عمارات اور کم تنخواہ والے نا تجربہ کار اساتذہ سے کام لے لیکر عوام میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں اور پرائیویٹ سکول طلباء سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں، ماضی میں بھی محکمہ تعلیم سکولز کو تجربہ گاہ بنائے رکھا ہے اور اساتذہ کی ایک بات بھی نہیں سنی جاتی جس کی وجہ گورنمنٹ سیکٹر اب عملاً تباہی کے دھا نے پر پہنچا دیا ہے۔

وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات جس تیزی سے انقلاب لانے کے لئے جو بھی تبدیلیاں لا رہے ہیں اس کے خیالی ثمرات بہت جلد سامنے آ جائیں گے کہ گورنمنٹ سکولز روبہ زوال کو پہنچ جائیں گے۔

ماضی میں اساتذہ صرف پڑھانے کا کام کرتے تھے اور اکثر اساتذہ نہ دفاتر آ تے تھے اور نہ ہی آفیسر متعلقہ کو جانتے تھے، اب تو اساتذہ سکولوں اور تعلیمی دفاتر کے درمیان شٹل کاک بنے ھوئے ہیں اور اساتذہ کو تعطیلات کے دوران بھی سکون میسر نہ ہے۔

وزیر تعلیم پنجاب کو مشورہ دیتا ھوں کہ فیکن کہ کر اساتذہ کو قربان کرنا ہے توبیشک کردو مگر سسکا سسکا کر نہ مارو

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button