مومن کی ابتلاء و آزمائش کی حکمت | تحریر: کنول ناصر

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر نیک و بد رنج و الام اور مصائب کا شکار نظر اتا ہے. ایسے میں جب ہم نیک اور باشریع انسان کو کسی کو مصیبت اور بیماری میں مبتلا دیکھتے ہیں تو ہم شدید ملال کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالی نے سورہ نساء میں اپنی سنت یہ بتائی ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ-(40)بیشک اللہ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں فرماتا. لہذا اللہ تعالی کی دی ہوئی ہر سختی اور مصیبت میں اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے. تو قرآن وسنت کے علوم کی روشنی میں اہلِ علم نے پانچ وجوہات کا تعین کیا ہے۔ نزولِ مصائب کی پہلی وجہ مومن بندے کی آزمائش ہوتی ہے ،اللہ کی ذات علام الغیوب ہے لیکن اہلِ دنیا پر واضح کرنے کے لیے کہ میرا بندہ مصیبت آنے پر صبر کرتا ہے یا بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے،مختلف طریقوں سے آزماتا رہتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے وَلَنَبْلُوَنَّکُم بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٖ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ( البقرۃ: ۱۵۵ )’’ اور ہم تمہیں کچھ خوف اور بھوک سے دوچار کر کے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں میں نقصان کرکے ضرور آزمائیں گے‘‘۔ آفات کے نازل ہونے کادوسرا سبب مسلمان کے گناہوں کا کفارہ ہے ،اللہ تعالی مصیبت میں مبتلا فرماکر گناہوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور آخرت کی سزا سے بچا لیتے ہیں ، صحیحین میں حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مَا یُصِیْبُ المسلمُ من نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا ھَمٍّ وَلَا حُزْنٍ حتٰی الشوکۃِ یُشَاکُہَا إلاَّ کَفَّرَ اللّٰہُ بھا مِنْ خَطایاہُ ’’ مومن مرد کو جو بھی دکھ اور جو بھی بیماری اور جو بھی پریشانی اور جو بھی اذیت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اس کو کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کی صفائی کر دیتا ہے ‘‘ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ منقول ہیں حَطَّ عنہ من سَیِّآتِہٖ کما تُحَطُّ الشجرۃُ وَرَقَھا ’’ اللہ تعالی( اس مصیبت کی وجہ سے) اس کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے خزاں رسیدہ درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے‘‘۔
حوادث و آلام پیش آنے کی تیسری علت نیک اور متقی لوگوں کے درجات کو بلند کرنا ہے،انبیاء، اولیاء اور سلفِ صالحین کی سوانح پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں بڑے کٹھن حالات اور دشوار گذار مراحل آئے، سننِ ترمذی میں حضرت سعدؓ بن ابی وقاص ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا أیُّ الناسِ أشَدُّ بَلَائً؟ سب سے سخت تکلیفیں کن لوگوں پر آئیں ؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا الانبیاء ثم الامثل فالامثل ’’ سب سے زیادہ مصیبتیں انبیاء پر آئیں ،پھر وہ جو ان کے طریقے کے زیادہ قریب ہیں اور پھر وہ جوان کے طریقے کے زیادہ قریب ہیں ‘‘۔ان جلیل القدر شخصیات کے اللہ تعالی کے مقرب و محبوب ہونے کے باوجود ان پر تکالیف اس لیے آئیں تاکہ اللہ تعالی انھیں اپنے ہاں مزید بلندی درجات سے نوازے۔
مسندِ احمد میں محمد بن خالد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنَّ العبدَ إذا سَبَقَتْ لَہ مِنَ اللّٰہِ منزلۃً لَمْ یَبْلُغْھَا بِعملہ ابتلاہُ اللّٰہُ فی جسدِہٖ أوْ فِی مالِہٖ أوْ فِی وَلدِہٖ ثم صَبَرَہٗ علی ذلک حتی یُبْلِغَہٗ المنزلۃَ التی سَبَقَتْ لہ مِنَ اللّٰہِ ’’ کسی مومن بندے کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے ایسا بلند مقام طے ہو جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتا تو اللہ تعالی اس کو کسی جسمانی یامالی تکلیف میں یا اولاد کی طرف سے کسی صدمہ اور پریشانی میں مبتلا کر دیتا ہے ،پھر اس کو صبر کی توفیق دیتا ہے؛ یہاں تک کہ بندہ(ان مصائب اور تکالیف پر صبر کرنے کی وجہ سے ) اس بلند درجہ تک پہنچ جاتا ہے جو اس کے لیے پہلے سے طے ہو چکا تھا‘‘۔
ناموافق حالات کے درپیش ہونے کی چوتھی وجہ غافل انسان کو متنبہ اور خبردار کرنا ہے،اللہ تعالی بندے سے غفلت کی چادر کو اتارنے اور اسے اپنی بندی اور اطاعت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس پر مصائب اتارتے ہیں ،فرمانِ خداوندی ہے وَلَنُذِیقَنَّہُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَیٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ( احزاب :۴۲ ) ’’اور ہم ان (نافرمانوں ) کو بڑے عذاب سے پہلے چھوٹا عذاب چکھاتے ہیں تاکہ وہ باز آجائیں.”مختصر الفاظ میں جہاں جہاں افات و مصائب گنہگاروں کی تنبیہ کا ذریعہ ہوتے ہیں تو دوسری طرف صالحین کی ازمائش اور درجات کی بلندی کا باعث ہوتے ہیں کس انسان کو کس نوعیت کی ازمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے یہ حکمت خداوندی طے کرتی ہے جس تک ہم جیسے عام انسانوں کی عقل کی رسائی ممکن نہیں. بیماریوں رنج و الام کے علاوہ قید جس سے ہم صرف سزا کا ذریعہ مانتے ہیں وہ بھی صالحین کی ازمائش کا ذریعہ بنتی ہے. یہاں تک کہ ایک حیرت انگیز حقیقت یہ بھی ہے کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے یہ کوئی ایسا انسان جو اللہ سے محبت رکھنے والا ہو اسے اللہ تعالی دنیا دار اور شیطان صفت افراد سے بچانے کا بندوبست یوں بھی کرتے ہیں کہ اسے قید میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
اپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کئی بے گناہ افراد کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور وہ اپنی زندگی کے کئی برس قید میں گزار دیتے ہیں. اگرچہ ہم لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے لیکن بذات خود ایسے افراد کو اللہ سے کوئی شکوہ نہیں ہوتا بلکہ وہ قید میں دنیا کی ذمہ داریوں اور رنگینیوں سے دور رہ کر سکون سے یاد الہی اور اپنے تزکیہ نفس میں مصروف رہتے ہیں. بسا اوقات یہ ظاہری قید نہیں ہوتی بلکہ حالات کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم کچھ لوگوں کی قید میں ہوں. مثلاً روز مرہ زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والی اکثر خواتین شوہر اور سسرال کی شدید پابندیوں کا شکار ہوتی ہیں. یہ بھی درحقیقت بظاہر تو قید نہیں ہوتی لیکن ان پابندیوں کی مصلحت بھی قید کی طرح کسی مومن بندے کو برائیوں اور لہو لعب کی طرف مائل کرنے والے افراد کے شر سے بچانا ہی ہوتا ہے۔
لہذا اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بہت سے صالحین ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنی مرضی سے قید کا انتخاب کیا ہے. -سب سے پہلی مثال قران پاک کی سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے جنہوں نے شہر کی عورتوں کے فتنے سے بچنے کے لیے خود فرمایا کہ؛ قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ(33) "اس نے کہا اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور جاہلوں سے ہوجاؤں گا۔” تفسیرفہم قرآن – میاں محمد جمیل فہم القرآن : (آیت 33 سے 35) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بے بسی کے عالم میں مانگی ہوئی دعا قبول ہوئی ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) زر خرید غلام اور غریب الوطن ہونے کی وجہ سے ہر طرف سے بے بس اور مجبور تھے۔ اگر فرار کا راستہ اختیار کرتے تو ان کے سامنے جیل خانہ یا موت تھی۔ دوسری طرف ایک نہیں کئی عورتیں بے حیائی کے چنگل میں پھنسانا چاہتی تھیں۔ یوسف (علیہ السلام) جائیں تو جائیں کہاں۔ مزید یہ کہ اس عورت نے ذلیل کرنے یا جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈالنے کی دھمکی دی تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر اس کا اظہار کیا کہ جس بے شرمی اور بے حیائی کی تو مجھے دعوت دیتی ہے اور اس کے نہ کرنے پر مجھے جیل جانے کی دھمکی سنا رہی ہے۔ شرم و حیا کے لٹ جانے سے میرے لیے یہ بڑا آسان راستہ ہے کہ میں جیل کی کوٹھڑی قبول کرلوں۔ مقصد یہ تھا کہ جس میں انسان کی حیا رخصت ہوجائے ایسی آزادی اور عزت کو پرکاہ برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔
ان خیالات کے اظہار کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اپنے رب سے فریاد کی کہ اے رب کریم میں کب تک اس آزمائش میں پڑا رہوں گا۔ جس طرف یہ مجھے بلا رہی ہے۔ اے میرے رب اگر تو نے مجھے ان کے مکرو فریب سے نہ بچایا تو انسان ہونے کے ناتے ڈر ہے کہ کہیں میں ان کی طرف مائل ہو کر تیری بارگاہ میں جاہلوں میں شامل نہ ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی فریاد قبول کی اور انہیں عورتوں کے مکرو فریب، بے شرمی اور بے حیائی سے محفوظ کردیا۔ کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی فریادیں قبول کرنے والا اور ان کے دلوں کے بھید جاننے والاہے۔
اس ایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے گناہ کے بجائے جیل کو ترجیح دی لہذا اگلی آیت کے مطابق؛ فَاسْتَجَابَ لَـهٝ رَبُّهٝ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْـمُ (34)”اللہ نے اس کی دعا قبول فرمائی اور عورتوں کی تدبیر سے اسے دور رکھا بے شک وہ سننے اور جاننے والاہے۔” (یوسف :34).بالفاظ دیگر یوسف علیہ السلام نے قید کو دنیاوی فتنوں سے حفاظت کے طور پر اختیار کیا یہاں تک کہ جب انہیں بادشاہ وقت کی جانب سے رہا کرنے کا حکم ملا تو فورا رہا ہونے کی بجائے انہوں نے پہلے اس امر کی تصدیق چاہی کہ وہ فتنہ اب تو موجود نہیں ہے؛ وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُـوْنِىْ بِهٖ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِــعْ اِلٰى رَبِّكَ فَاسْاَلْـهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِىْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَـهُنَّ ۚ اِنَّ رَبِّىْ بِكَـيْدِهِنَّ عَلِيْـمٌ (50) "اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لے آؤ، پھر جب اس کے پاس قاصد پہنچا تو کہا اپنے آقا کے ہاں واپس جا اور اس سے پوچھ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بے شک میرا رب ان کے فریب سے خوب واقف ہے۔” لہذا ان کے کہنے پر بادشاہ نے ان خواتین سے گواہی طلب کی؛ قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ۚ قُلْنَ حَاشَ لِلّـٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوٓءٍ ۚ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْاٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ؕ اَنَا رَاوَدْتُّهٝ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٝ لَمِنَ الصَّادِقِيْنَ (51) "کہا تمہارا کیا واقعہ تھا جب تم نے یوسف کو پھسلایا تھا، انہوں نے کہا اللہ پاک ہے ہمیں اس میں کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی، عزیز کی عورت بولی کہ اب سچی بات ظاہر ہوگئی، میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا تھا اور وہ سچا ہے۔”
اگلی ایت میں حضرت یوسف کے ایسا کرنے کی وجہ کچھ یوں بیان کی گئی ہے؛ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِىْ كَيْدَ الْخَآئِنِيْنَ (52)” یہ اس لیے کیا تاکہ عزیز معلوم کر لے کہ میں نے اس کی غائبانہ خیانت نہیں کی تھی، اور بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔” پھر انہوں نے قید اختیار کرنے کی وجہ کچھ یوں بتائی کہ؛ وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِىْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىْ ۚ اِنَّ رَبِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (53)”اور میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا، بے شک نفس تو برائی سکھاتا ہے مگر جس پر میرا رب مہربانی کرے، بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔” اور پھر اللہ تعالی کا یہ بندہ اس قید کے امتحان سے سرخرو اور معتبر ہو کر نکلا؛ وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُـوْنِىْ بِهٓ ٖ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِىْ ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهٝ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَـدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ (54)”اور بادشاہ نے کہا کہ اسے میرے پاس لے آؤ تاکہ اسے خاص اپنے پاس رکھوں، پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہا بے شک آج سے ہمارے ہاں تو بڑا معزز اور معتبر ہے۔” آگے جا کر اللہ تعالی نے یوسف علیہ السلام کی قید کی آزمائش کے نتیجے میں ملنے والا دنیا و آخرت کا اجر اور انعام و اکرام کچھ یوں بیان فرمایا ہے؛ وَكَذٰلِكَ مَكَّـنَّا لِيُوْسُفَ فِى الْاَرْضِ يَتَبَوَّاُ مِنْـهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيْبُ بِرَحْـمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (56) "اور ہم نے اس طور پر یوسف کو اس ملک میں با اختیار بنا دیا کہ اس میں جہاں چاہے رہے، ہم جس پر چاہیں اپنی رحمت متوجہ کر دیں، اور ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔”وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْـرٌ لِّلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَكَانُـوْا يَتَّقُوْنَ (57)”اور آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر ہے جو ایمان لائے اور پرہیزگاری میں رہے۔”-۔
قرآن پاک میں دوسری مثال سورہ کہف میں ان نوجوانوں کی جنہوں نے ایک ایسے بادشاہ وقت کے عتاب سے بچنے کی لئے جو کہ وحدانیت کا اقرار کرنے والوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیتا تھا اپنے آپ کو ایک غار میں محسور کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک طویل سکون کی نیند سلا دیا، کچھ یوں بیان کی گئی ہے؛اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْـمِ كَانُـوْا مِنْ اٰيَاتِنَا عَجَبًا (9) "کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور کتبہ والے ہماری نشانیوں والے عجیب چیز تھے۔” اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّـدُنْكَ رَحْـمَةً وَّّهَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا (10) "جب کہ چند جوان اس غار میں آ بیٹھے پھر کہا اے ہمارے رب ہم پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اور ہمارے اس کام کے لیے کامیابی کا سامان کر دے۔” فَضَرَبْنَا عَلٰٓى اٰذَانِـهِـمْ فِى الْكَهْفِ سِنِيْنَ عَدَدًا (11) "پھر ہم نے کئی سال تک غار میں ان کے کان بند کر دیے۔”ثُـمَّ بَعَثْنَاهُـمْ لِنَعْلَمَ اَىُّ الْحِزْبَيْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُـوٓا اَمَدًا (12) "پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ دونوں جماعتوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے جتنی مدت وہ رہے۔” نَّحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُـمْ بِالْحَقِّ ۚ اِنَّـهُـمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُـوْا بِرَبِّـهِـمْ وَزِدْنَاهُـمْ هُدًى (13) "ہم تمہیں ان کا صحیح حال سناتے ہیں، بے شک وہ کئی جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے انہیں اور زیادہ ہدایت دی۔”وَرَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِـهِـمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَ مِنْ دُوْنِهٓ ٖ اِلٰـهًا ۖ لَّـقَدْ قُلْنَـآ اِذًا شَطَطًا (14)”اور ہم نے ان کے دل مضبوط کر دیے جب وہ یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہرگز نہ پکاریں گے، ورنہ ہم نے بڑی ہی بے جا بات کہی۔” هٰٓؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٓ ٖ اٰلِـهَةً ۖ لَّوْلَا يَاْتُوْنَ عَلَيْـهِـمْ بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ ۖ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَـرٰى عَلَى اللّـٰهِ كَذِبًا (15) "یہ ہماری قوم ہے انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے ہیں، ان پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے، پھر اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔” لہذا اللہ تعالی نے بھی ان با ایمان نوجوانوں کے لیے خصوصی رحمت کا کچھ اس طرح وعدہ فرمایا؛ وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُـمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّـٰهَ فَاْوُوٓا اِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْـمَتِهٖ وَيُـهَـيِّـئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا (16)”اور جب تم ان سے الگ ہو گئے ہو اور (ان سے بھی) اللہ کے سوا جنہیں وہ معبود بناتے ہیں تب غار میں چل کر پناہ لو، تم پر تمہارا رب اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لیے تمہارےاس کام میں آرام کا سامان کر دے گا۔” اللہ تعالی نے غار میں ان کے لیے مخصوص اب و ہوا فراہم کی اور ان کی حفاظت کا اپنی قدرت کاملہ سے خصوصی بندوبست کیا؛ وَتَـرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِـمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُـمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُـمْ فِىْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ ۚ ذٰلِكَ مِنْ اٰيَاتِ اللّـٰهِ ۗ مَنْ يَّـهْدِ اللّـٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَـهٝ وَلِيًّا مُّرْشِدًا (17)”اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے ان کے غار کے دائیں طرف سے ہٹا ہوا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان کی بائیں طرف سے کتراتا ہو گزر جاتا ہے اور وہ اس کے میدان میں ہیں، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے تمہیں کوئی بھی کارساز راہ پر لانے والا نہیں ملے گا۔” وَتَحْسَبُـهُـمْ اَيْقَاظًا وَّهُـمْ رُقُوْدٌ ۚ وَنُـقَلِّبُـهُـمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ۖ وَكَلْبُـهُـمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيْدِ ۚ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْـهِـمْ لَوَلَّيْتَ مِنْـهُـمْ فِرَارًا وَّلَمُلِئْتَ مِنْـهُـمْ رُعْبًا (18)”اور تو انہیں جاگتا ہوا خیال کرے گا حالانکہ وہ سو رہے ہیں، اور ہم انہیں دائیں بائیں پلٹتے رہتے ہیں، اور ان کا کتا چوکھٹ کی جگہ اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہے، اگر تم انہیں جھانک کر دیکھو تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہو اور البتہ تم پر ان کی دہشت چھا جائے۔” پھر ایک طویل مدت کے بعد انہیں جگایا تاکہ اس کی قدرت کی نشانی کا مشاہدہ وہ خود اور دیگر افراد کریں؛ وَكَذٰلِكَ بَعَثْنَاهُـمْ لِيَتَسَآءَلُوْا بَيْنَـهُـمْ ۚ قَالَ قَـآئِلٌ مِّنْـهُـمْ كَمْ لَبِثْتُـمْ ۖ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۚ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُـمْۚ فَابْعَثُـوٓا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٓ ٖ اِلَى الْمَدِيْنَةِ فَلْيَنْظُرْ اَيُّـهَآ اَزْكـٰى طَعَامًا فَلْيَاْتِكُمْ بِـرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِـرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا (19)”اور اسی طرح ہم نے انہیں جگا دیا تاکہ ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں سے ایک نے کہا تم کتنی دیر ٹھہرے ہو، انہوں نے کہا ہم ایک دن یا دن سے کم ٹھہرے ہیں، کہا تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنی دیر تم ٹھہرے ہو، اب اپنے میں سے ایک کو یہ اپنا روپیہ دے کر اس شہر میں بھیجو پھر دیکھے کون سا کھانا ستھرا ہے پھر تمہارے پاس اس میں سے کھانا لائے اور نرمی سے جائے اور تمہارے متعلق کسی کو نہ بتائے۔” اِنَّـهُـمْ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ يَرْجُـمُوْكُمْ اَوْ يُعِيْدُوْكُمْ فِىْ مِلَّتِـهِـمْ وَلَنْ تُفْلِحُـوٓا اِذًا اَبَدًا (20) "بے شک وہ لوگ اگر تمہاری اطلاع پائیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا اپنے دین میں لوٹالیں گے پھر تم کبھی فلاح نہیں پا سکو گے۔” ان کے واقعے کو ظاہر کرنے کا اللہ تعالی کا ایک مقصد تو ان کو ان کی قوم سے عزت دلانا تھا اور دوسرا یہ بتانا کہ اللہ کی راہ پہ چلنے والوں کے لیے وہ قوانین فطرت کو تبدیل کر کے بہترین راستہ نکالتا ہے اور اس طرح اس کا وعدہ سچا ہے وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْـهِـمْ لِيَعْلَمُوٓا اَنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِـيْهَاۚ اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَـهُـمْ اَمْرَهُـمْ ۖ فَقَالُوْا ابْنُـوْا عَلَيْـهِـمْ بُنْيَانًا ۖ رَّبُّهُـمْ اَعْلَمُ بِـهِـمْ ۚ قَالَ الَّـذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓى اَمْرِهِـمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْـهِـمْ مَّسْجِدًا (21) "اور اسی طرح ہم نے ان کی خبر ظاہر کردی تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں، جبکہ لوگ ان کے معاملہ میں جھگڑ رہے تھے، پھر کہا ان پر ایک عمارت بنا دو، ان کا رب ان کا حال خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے کہا جو اپنے معاملے میں غالب آ گئے تھے کہ ہم ان پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے۔”۔
اس کے بعد جب ہم تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو یہ بندگانے خدا کی لازوال قربانیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جس میں سے سب سے عظیم قربانی جس کی انسانی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی وہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہل و عیال کی حق کی سربلندی اور باطل کی سرکوبی کے لیے دی گئی قربانی ہے، جس کی ہم ہر سال اس طرح یاد مناتے ہیں جیسے یہ اج ہی کا واقعہ ہو یزیدی فوج نے جو مظالم اہل بیت پر کیے قید بھی ان کا حصہ تھا، کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور امام زین العابدین کو چھوڑ کر ان کی ساری اولاد کو شہید کرنے کے بعد ان ؑکی قربانی کی اہمیت کو کم کرنے، اس کے عظیم مقاصد کو چھپانے اور اس کے ردِعمل میں مسلمانوں کی بیداری کو روکنے کیلئے یزیدی حکومت کی تمام کوششیں، ہر طرح کی سازشیں اور شیطانی منصوبے ایک ایک کر کے ناکام ہوتے جارہے تھے۔
خفیہ ایجنسی والے عوام کے بدلتے رویے کے بارے میں اپنی رپورٹیں یزید کو پیش کرتے تو اس کا وجود نفرت، بے زاری، بے بسی اور پچھتاوے کی آگ میں جلنے لگتا ۔حسین ؑابن علی ؑکا قتل اس کی سب سے بڑی خواہش تھا۔ اسے نواسۂ رسول ؐکوقتل کرنے پر کوئی شرمندگی تھی نہ پچھتاوا۔ اسے پچھتاوا تھا تو اس بات پر کہ حسین ؑکے قتل سے وہ جو کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا وہ سب کچھ ہمیشہ کیلئے اس کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ کربلا میں اس کی فوجوں نے جس بربریت کا مظاہرہ کیا تھا اس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے عوام کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت کا لاوا ابل رہا تھا۔
کربلا کے قیدیوں کے اعتماد اور بے باکی نے عوام کوظلم سے ڈرنے کی بجائے ظلم سے ٹکرانے کا ایک نیا حوصلہ عطا کر دیا تھا۔ پہلے جو لوگ حکومت کے معاملات سے بے خبر اور غیر جانبدار رہتے تھے انہوں نے بھی اپنے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ شام کے رہنے والے حکومت کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اب تک بنی امیہ ہی کو رسول اسلام ؐکا رشتے دار سمجھتے رہے تھے۔ اکثر لوگ اسی وجہ سے ان کی عزت بھی کرتے تھے لیکن حضرت علی ؑابن الحسینؑ اور جناب زینب ؑبنت علی ؑکی تقریروں نے اس فریب کا پردہ بھی ہمیشہ کیلئے چاک کر دیا تھا۔ یزیدی حکومت نے اسلام کی جو نقاب پہن رکھی تھی، کربلا کے قیدیوں نے اس کے چہرے سے وہ نقاب کھینچ کر یزید اور اس کے تمام سرپرستوں کو بے نقاب کر دیا تھا۔ یزید اب اگر کسی پچھتاوے کا شکار تھا تو اس کی وجہ اس کی یہی ناکامیاں تھیں اور انھی ناکامیوں نے اسے آخر کار ذہنی مریض بنا دیا تھا۔ باپ دادا کا تیار کردہ سفیانی منصوبہ آج اس کے دور ِحکومت میں خود اس کی حماقتوں کے سبب بدترین ناکامی سے دو چار ہوتا نظر آ رہا تھا۔
حضرت امام حسین ؑکے خاندان کی عورتوں اور بچوں کو ایک اذیت خانے میں قید کر کے وہ سمجھ رہا تھا کہ قید خانے کی تکلیفوں سے بیزار ہو کر وہ اس سے رحم کی درخواست کریں گے، اپنے شہید ہو جانے والے سرپرستوں کے فیصلوں پر اعتراض کریں گے کہ انہیں حکومت سے ٹکرانے کی کیا ضرورت تھی۔ جس طرح سارے مسلمانوں نے یزید کی بیعت کر لی تھی اس طرح حسین ؑابن علی ؑاور ان کے ساتھیوں کو بھی زندگی بچانے اور اپنے بال بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کیلئے اس کی بیعت کر لینا چاہیے تھی۔ لیکن یزید کا یہ منصوبہ بھی ناکامی کا شکار تھا۔ قید خانے میں دن رات سخت تکلیفیں برداشت کرنے والی خواتین اور بچے عام عورتوں اور بچوں سے بالکل مختلف تھے۔ وہ خاندان نبوت ؐکے افراد تھے۔ ان کی رگوں میں نبیوں ؐاور پیمبروں کا خون دوڑ رہا تھا۔ وہ دنیا کے انسانوں کی رہنمائی کیلئے آنے والے نبی آخرالزماں ؐاور اماموںؑ کے وارث تھے۔ وہ سید الشہداء ؑحضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کے مقاصد کی گہرائی جانتے تھے۔ انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ مشکلات و مصائب کے مقابلہ میں انہیں بہرحال ثابت قدم رہنا ہے ورنہ اسلام کے دشمن امام مظلوم ؑکی قربانی کو رقابت ، ضد اور غصے کا ردِعمل قرار دے کر اس کی اہمیت کو مسلمانوں کے ذہنوں سے محو کرانے کی کوشش کریں گے۔ اگر وہ ان مشکلات و مظالم سے ہار گئے تو امام مظلوم ؑنے حریت و آزادی کا جو چراغ اپنے لہو سے روشن کیا ہے اس سے دوسرے ہزاروں لاکھوں چراغ نہیں جل سکیں گے۔
حضرت علیؑ ابن الحسین ؑاور بی بی زینب ؑکی دلیرانہ قیادت میں کربلا کے قیدیوں میں شامل ہر عورت اور ہر بچہ اپنی جگہ ایک ناقابل شکست چٹان بن چکا تھا۔ انہیں قید کر کے یزید اب خود اپنے غلط فیصلوں کا قیدی بنا ہوا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ یہ معاملہ اب کسی طرح ختم ہو جائے۔
یہ قیدی جب تک شام کے قید خانے میں رہیں گے مسلمانوں کے دلوں سے حکومت کا خوف روز بہ روز کم ہوتا رہے گا اسی لئے یزید چاہتا تھا کہ وہ ان قیدیوں کو آزاد کر کے ذہنی سکون حاصل کرے اور مسلمانوں کی توجہ اور ہمدردی کا رخ اہلبیت ؑکی طرف سے موڑ دے۔ وہ خود اپنے فیصلے کو منسوخ نہیں کرنا چاہتا تھا کیوں کہ اس میں اس کی اپنی ذلت تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ قیدی خود اس سے رحم کی درخواست کریں لیکن یہ اس کا ایک خواب تھا جسے کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونا تھا۔
حسین ؑابن علی ؑکے خاندان سے یہ توقع کرنا ہی اس کی کم عقلی کی دلیل تھی۔ یہ قیدی ظلم وستم کو آخری حد تک برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ بے چھت کے اذیت خانے میں سخت تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کرتے کرتے ایک سال گزر گیا۔ یہاں گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ اور راتوں کی شبنم سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ صبح راتوں میں، دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے رہے۔ گرمیاں، سردیوں میں تبدیل ہوئیں، خزاں بہار میں اور بہار خزاں میں بدل گئی لیکن ان قیدیوں کی زندگی میں خزاں کا جو موسم آیا تھا وہ نہ بدلا۔ اسی دوران اپنے باپ کے سینے پر سونے والی حسین ؑکی ایک بیٹی اپنے مظلوم باپ کو یاد کرتے کرتے اسی قید خانے کی مٹی کا حصہ بن گئی مگر یزید ان قیدیوں کے حوصلے کو شکست نہ دے سکا۔ یزیدی ظلم و ستم اپنی آخری حدود کو چھونے لگا لیکن ان قیدیوں کے ہونٹوں سے کسی نے شکایت نہیں سنی۔ حتیٰ کہ کسی چھوٹے بچے تک نے قید خانے کے در بان سے بھی کوئی فرمائش ،کوئی درخواست نہیں کی۔ حضرت امام حسین ؑکی چھوٹی سی بچی نے قید خانے میں دم توڑا تو قید خانے کے اردگرد رہنے والے مسلمان بھی ان قیدیوں کی مظلومیت پر آنسو بہانے پر مجبور ہو گئے۔ یہ خبر سینہ بہ سینہ سارے شہر میں پھیل گئی تھی۔ جو شخص بھی اس خبر کو سنتا قیدیوں کی مظلومیت پر روتا اور بے اختیار حکومت کے کارندوں اور یزید کو برا بھلا کہنے لگتا۔
یہ ساری خبر یں یزید تک پہنچ رہی تھیں اور وہ ان خبروں کو سن کر سوائے ہاتھ ملنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا تھا آخر ایک دن وہ ہار مان گیا اور اہل بیت کو رہا کر کے ان کا قافلہ مدینے روانہ کر دیا.-حکومت بنی امیہ سے بنی عباس میں منتقل ہو گئی لیکن شاہان وقت کی اہل بیت کے ساتھ دشمنی برقرار رہی اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہونے کے ناطے مسلمانوں کی باگ دوڑ سنبھالنے کا سب سے زیادہ حق انہی کہا تھا اور ان سے زیادہ با عمل اور با علم کوئی بھی نہ تھا لہذا انے والے تمام شاہان وقت اہل بیت کی نسل کشی کی کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ اگر تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو تقریبا تمام ائمہ وقت کے حکمرانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ان پر جو مظالم ڈھائے گئے قید و بند بھی ان کا حصہ تھی خصوصا امام موسیٰ کاظم کو ہارون رشید کے زمانے میں ان کی عمر کا ایک بڑا حصہ اذیت ناک قید میں گزارناپڑا. ان کی قید کی اصل وجہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کا خوف اور ان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی خواہش تھی، کیونکہ امام کاظم ان پر ایک حقیقی سیاسی خطرہ تھے جو لوگ ان کے طرف متوجہ ہو رہے تھے، جس کی وجہ سے ہارون نے انہیں ایک طویل عرصے تک قید میں رکھا اور بالآخر انہیں زہر دے کر قتل کروا دیا.
روایات کے مطابق قید کے دوران امام کاظم علیہ السلام کو مخفی رکھنے کے لیے مختلف زندانوں میں بھیجا گیا۔ ہارون نے حاکم بصرہ کو حکم دیا کہ امام کو بصرہ کے زندان میں ڈالا جائے، اس زمانے میں بصرہ کا حاکم عیسی بن جعفر بن منصور تھا، عیسی نے ایک سال تک امام علیہ السلام کو بصرہ کے زندان میں رکھا، اسی کے درمیان ہارون نے عیسی کو خط لکھا کہ امام علیہ السلام کو زہر دے کر قتل کر دے۔ عیسی نے کچھ اپنے نزدیکی لوگ اور مشاوروں سے اس سلسلے میں مشورہ کیا، تو ان لوگوں نے اس کام کو اس کے صلاح کے خلاف سمجھا، اور ان لوگوں نے رائے دی کہ ان کو قتل کر نے کے ارادے کو چھوڑ دے، اور ہارون سے کہے کہ وہ اس کام کو کرنے کے لیے اس کو معاف کر دے ۔
عیسی بن جعفر نے اس بارے میں ہارون کو خط لکھا۔موسی کاظم ہمارے زندان میں ایک زمانے سے ہیں، اور اس عرصے میں میں نے ان کو آزمایا ، اور کچھ لوگوں کو ان پر نظر رکھنے کے لیے معین کیا لیکن کچھ دیکھا نہیں گیا سوائے اس کے کہ وہ عبادت میں مشغول رہے ہیں، اور کچھ لوگوں کو اس کام پر معین کیا کہ وہ چپکے سے ان کی بات سنیں کہ وہ دعا میں کیا کہتے ہیں اور کیا دعا کرتے ہیں مگر سنا نہیں گیا کہ وہ تمہارے یا میرے لیے بد دعا کرتے ہوں، یا ہم لوگوں کو برا کہتے ہوں۔ سوائے اس کے کہ وہ خداوند عالم سے مغفرت و رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ ابھی کسی کو بھیجو تا کہ میں موسی کاظم کو اس کے حوالے کر دوں ورنہ میں ان کو آزاد کر دوں گا، کیونکہ میں اس سے زیادہ ان کو زندان میں نہیں رکھ سکتا۔روایت میں ہے کہ: بعض چپکے سے امام پر نظر رکھنے والے جن کو عیسی نے معین کیا تھا۔ اس نے دیکھا اور عیسی کو خبر دی کہ امام علیہ السلام سے بہت سنا ہے کہ وہ دعا میں کہتے ہیں "اے خدا ! تو جانتا ہے کہ میں چاہتا تھا کہ مجھے تنھائی میسر ہو تا کہ تیری عبادت کر سکوں تو نے مجھے یہ جگہ عنایت کی میں تیرا بہت ہی مشکور ہوں۔”-
ہارون رشید کے بعد اس کے بیٹے مامون کے زمانے میں فتنہ خلق قران کی وجہ سے امام احمد بن حنبل نے انتہائی سخت سزاؤں اور قید و بند کی بے پناہ اذیتیں برداشت کیں. یہ فتنہ برپا کرنے والا شخص قاضی احمد بن ابودائود تھا۔ یہ بڑا عالم فاضل تھا۔ معتزلی عقیدہ کا مالک تھا۔ خلیفہ مامون کے بہت قریب تھا۔ اس نے خلیفہ مامون کو پٹی پڑھائی کہ قرآن مخلوق ہے۔ اس عقیدے کی اشاعت کی جانی چاہیے اور دراصل یہ یہودیوں کا عقیدہ تھا۔ اسلام سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ اس شخص نے قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ بشر مدلیسی سے لیا تھا۔ بشر مدلیسی نے جہم بن صفوان سے ٗجہم بن صفوان نے جعد بن درہم سے ٗ جعدبن درہم نے ربان بن سمعان سے اور ربان بن سمعان نے لبید بن اعصم یہودی کے بھانجے طالوت سے سیکھا تھا۔ یہ لبید بن اعصم وہی یہودی ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کرایا تھا ٗ یہ تورات کے مخلوق ہونے کا عقیدہ رکھتا تھا۔
طالوت بددین اور زندیق تھا۔ سب سے پہلے اس نے اس موضوع پر کتاب لکھی تھی۔قاضی احمد کی بات مان کر خلیفہ نے سن218 ہجری میں پورے عالمِ اسلام میں سرکاری حکم جاری کر دیا کہ ہر مقام کا امیر اور حاکم اپنے ہاں کے علماء سے اس کا اقرار لے۔ کوئی انکار کرے تو اسے گرفتار کر کے خلیفہ کے دربار میں بھیج دے۔بغداد کے پولیس آفیسر اسحاق بن ابراہیم کو یہ حکم پہنچا۔ اس نے وہاں کے علماءکو بلا لیا، ان میں امام احمد بن حنبل بھی تھے۔ ان کے سامنے مامون کا حکم سنایا گیا اور کہا گیا سب لوگ اقرار کریں کہ قرآن اللہ کی مخلوق ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فوراً کہا قرآن اللہ کا کلام ہے۔آپ کے ساتھ تین اور محدثین نے بھی قرآن کو مخلوق ماننے سے انکار کیا۔ اسحاق بن ابراہیم نے انہیں قید میں ڈال دیا۔ دوسرے دن اس نے چاروں کو جیل سے نکلوایا اور کہااقرار کر لو کہ قرآن اللہ کی مخلوق ہے۔ان میں سے ایک نے اقرار کر لیا۔ امام صاحب اور ان کے باقی دو ساتھیوں کو پھر جیل میں ڈال دیا گیا۔ تیسرے دن اس نے تینوں کو بلا کر پھر اقرار کروانا چاہا۔ آج بھی ان میں سے ایک نے اقرار کر لیا۔ اب امام صاحب کے ساتھ صرف ایک ساتھی رہ گئے۔ ساتھی کا نام محمد بن نوح تھا۔ ان دونوں کو حالتِ قید ہی میں طرسوس روانہ کر دیا گیا۔ محمد بن نوح طرسوس کے راستے میں انتقال کر گئے۔ امام احمد بن حنبل نے ان کی تجہیز و تکفین کی۔ایسے حالات میں ایک دن مامون کا ایک درباری روتا ہو آپ کے پاس آیا اور بولاابو عبداللہ! معاملہ بہت سخت ہے۔ مامون نے تلوار نیام سے نکال لی ہے اور قسم کھا کر کہہ رہا ہے ٗ اگر احمد نے خلقِ قرآن کا اقرار نہ کیا تو میں اس تلوار سے اس کی گردن اڑادوں گا۔یہ سن کر امام احمد بن حنبل نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیک دیا اور آسمان کی طرف دیکھا ٗ پھر بولےاے اللہ! اس فاجر کو تیرے حلم نے اتنا مغرور کر دیا ہے کہ اب وہ تیرے دوستوں پر بھی ہاتھ اُٹھانے سے باز نہیں آرہا… اے اللہ! اگر قرآن تیرا کلام ہے اور مخلوق نہیں ہے تو مجھے اس پر ثابت قدم رکھ… اور میں اس کے لئے ساری مشقیں برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔یہ دُعا ابھی ختم ہوئی ہی تھی کہ رات کے آخری حصے میں مامون کی موت کی خبر آ گئی۔
حضرت امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں ٗمجھے یہ خبر سن کر بہت خوشی ہوئی… لیکن پھر مجھے معلوم ہوا کہ معتصم کو خلیفہ بنایا گیا ہے اور محمد بن ابی دائود اس کا وزیر مقرر ہوا ہے تو صورتِ حال اور زیادہ خوفناک محسوس ہونے لگی۔
خلیفہ مامون کے بعد معتصم خلیفہ بنا تھا۔ مامون نے اس بارے میں اسے تاکید کی تھی کہ علماء سے یہ مسئلہ منوایا جائے۔ اس نے خلیفہ بنتے ہی حکم دیا کہ ان علماء کو پیش کیا جائے۔امام صاحب اور ان کے ساتھیوں کو جیل خانے میں ڈال گیا ۔ اس حالت میں بھی ان کی بیڑیاں نہ کھولی گئیں۔ امام صاحب بیڑیوں میں رہ کر قیدیوں کی امامت کراتے رہے۔ امام صاحب کو جیل سے نکال کر بھرے دربار میں پیش کیا جاتا۔ معتصم قرآن کے مخلوق ہونے کے بارے میں بحث کرتا۔ جب آپ نہ مانتے تو جیل میں بھجوا دیتا۔ آخر اس نے ایک دن کہااگر آپ نہیں مانیں گے تو پھر آپ کو کوڑے لگوائے جائیں گے۔امام صاحب کہتے ہیںاس بات سے میں خوف زدہ ہو گیا… کوڑوں کی سزا میرے لئے خوفناک تھی اور میرا خیال تھا کہ میں برداشت نہیں کر سکوں گا… لیکن انھی حالات میں ایک دن جب خلیفہ نے بات کرنے کے لئے بلایا تو ایک دیہاتی راستے میں آپ کے سامنے آ گیا۔ اس کا نام جابر بن عامر تھا۔ اس نے امام احمد کو سلام کیا اور کہاامام صاحب ! آپ کی ذات اس وقت مُسلمانوں کے لئے بہت اہم ہے۔ آپ اس وقت مُسلمانوں کے نمائندے بن کر بادشاہ کے دربار میں جا رہے ہیں۔ اللہ کے لئے آپ مُسلمانوں کو شرمندہ نہ کرائیے گا۔ ہرگز ہرگز خلقِ قرآن کا اقرار نہ کیجئے گا۔ اگر آپ اللہ کو دوست رکھتے ہیں تو صبر کیجئے گا… بس جنت اور آپ میں آپ کے شہید ہونے کی دیر ہے… اور موت تو بہر حال آنے والے ہے… اگر آپ اس فتنے میں کامیاب ہو گئے تو آپ کی دُنیا اور آخرت دونوں بن جائیں گی۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کی یہ باتیں میرے دل پر اثر کر گئیں اور میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ خلیفہ کی بات ہرگز نہیں مانوں گا۔اس کے علاؤہ ایک اور واقعہ یہ پیش آیا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک خط ربیع کے ہاتھ امام احمد کی طرف بھیجا۔ ربیع کہتے ہیں جس وقت میں ان کے پاس پہنچا ٗ وہ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر واپس ہو رہے تھے۔ میں نے خط انہیں پیش کیا۔ آپ نے پوچھا’’تم نے اس خط کو پڑھا ہے۔میں نے بتایا کہ نہیں ٗ میں نے خط نہیں پڑھا۔ اب آپ نے خط کھول کر پڑھا۔امام شافعی رحمہ اللہ نے لکھا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے ٗ وہ فرماتے ہیں کہ احمد کو میرا سلام کہو… اور انہیں اطلاع دو کہ عنقریب خلقِ قرآن کے مسئلے میں ان کی آزمائش ہو گی… خبر دار خلقِ قرآن کا اقرار نہ کریں… اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ان کے علم کو قیامت تک برقرار رکھیں گے۔خط پڑھ کر امام احمد رونے لگے ۔ پھر اپنا کرتا اُتار کر مجھے دیا۔
میں اسے لے کر مصر واپس آ گیا اور امام شافعی رحمہ اللہ سے سفر کے حالات بیان کیے۔ اس کے کرتے کا بھی ذکر کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے سن کر فرمایا میں وہ کرتا تو تم سے نہیں مانگتا… ہاں اتنا کرو کہ اسے پانی میں تر کر کے ٗ وہ پانی مجھے دے دو… تاکہ میں اس سے برکت حاصل کروں۔ بیہقیان واقعات سے آپ کو بہت حوصلہ ملا۔ آپ کو 18 ماہ تک قید میں رکھا گیا۔ پائوں میں بیڑیاں ڈال دی گئی تھیں۔ اسی حالت میں آپ قیدیوں کی امامت کرتے رہے۔ آخر 18 ماہ بعد اور بعض روایات کے مطابق تیس ماہ بعد آپ کو قید خانے سے نکال کر معتصم کے سامنے لایا گیا۔ بھاری بیڑیوں کی وجہ آپ کے لیے چلنا حد درجے دشوار ہو رہا تھا۔ امام صاحب فرماتے ہیں؛اس وقت حالت یہ تھی کہ بیڑیوں کو ازار بند سے باندھا اور ہاتھوں سے اُٹھا کر کچھ دور تک چلا ٗ پھر سواری لائی گئی۔ کوئی سواری پر بیٹھنے میں مدد دینے کو تیار نہیں تھا ٗ خود ہی ہزار دِقّت کے ساتھ سوار ہوا۔ اس طرح دارالخلافہ لایا گیا۔ یہاں ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ کمرے میں چراغ تک نہیں تھا۔ وضو کی ضرورت پیش ائی تو اندھیرے میں ٹٹولنے لگا۔ ایک کونے میں پانی کا برتن مل گیا ہے۔ اس سے وضو کیا۔ نماز کے لئے اس طرح کھڑا ہو ا کہ قبلے کی سمت معلوم نہیں تھی۔ پھر دن نکلنے پر مجھے معتصم کے سامنے پیش کیا گیا۔ ابن ابی دائود بھی موجود تھا۔ مجھے دیکھتے ہی بولاامیر المومنین! میرا تو خیال تھا ٗ یہ کوئی جوان آدمی ہو گا۔ یہ تو ادھیڑ عمر معلوم ہوتا ہے۔پھر میں معتصم کے قریب چلا گیا۔
اس نے اور نزدیک ہونے کے لئے کہا ٗ میں اور نزدیک ہو گیا اور سلام کیا۔ اس کے بعد میں نے کہاامیر المومنین! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کی طرف دعوت دی تھی؟معتصم نے کہالاالہ الا اللہ کی طرف۔میں نے کہاتو میں گواہی دیتا ہوں ٗ اللہ ایک ہے ٗ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔اب اس نے پوچھا قرآن کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟میں نے جواب دیاقرآن اللہ کا کلام ہے جس نے اللہ کے کلام کو مخلوق کہا ٗ اس نے کفر کیا۔اس پر سارے درباری طیش میں آ گئے اور بول اُٹھےاس نے ہم سب کو کافر کہا ہے۔معتصم نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ اب معتزلی گروہ نے آپ سے سوالات شروع کیے۔ آپ ہر سوال کا مکمل جواب دیتے رہے۔تمام دن سوالات اور جوابات ہوتے رہے… آخر بات دوسرے دن پر گئی… دوسرے دِن پھر سوالات شروع ہوئے… وہ دن بھی گزر گیا… پھر تیسرے دن مناظرہ شروع ہوا… آپ کی ایک اکیلی آواز سب پر بھاری رہی… ادھر معتصم ان سے بار بار یہ کہ رہا تھا احمد ! تم میرے مسلک کی تائید کرو ٗ میں تمہیں اپنا خاص مقرب بنائوں گا۔ پھر تم ان لوگوں میں سے ہو جائو گے جن کو میرے اس قیمتی فرش پر چلنے کا فخر حاصل ہے۔
اس کے جواب میں آپ یہی فرماتے.؛نہیں! میں اللہ کی کتاب اور سنتِ رسول سے اس کی دلیل چاہتا ہوں۔ادھر معتزلیوں نے دیکھا ٗ امام ان کے سوالات کی زد میں بالکل نہیں آ رہے تو معتصم سے کہنے لگے. امیر المومنین! یہ شخص کافر ہے ٗ گمراہ ہے ٗ اسے ضرور سزا ملنی چاہیے ٗ اگر اسے چھوڑ دیا گیا تو یہ بات خلافت کے خلاف ہو گی۔ پھر آپ کی کیا عزت رہ جائے گی۔
معتصم کا اپنا ذہن معتزلی تھا۔ اپنے دربار یوں کی باتیں سن کر اس نے سخت لہجے میں کہااللہ تیرا برا کرے ٗ میں نے تو تجھے اپنی طرف لانے کی پوری کوشش کی تھی ٗ لیکن تو بہت ضدی اور ناسمجھ نکلا۔پھر اس نے حکم دیا اسے کوڑے لگائے جائیں۔تب میرے دونوں ہاتھ باندھ دیے گئے۔ کوڑے مارنے والے نزدیک آئے تو میں نے معتصم سے کہا. امیر المومنین ! اللہ اللہ ! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں… اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشادات کے ہوتے ہوئے میرا خون حلال کیا جا رہا ہے ٗ کیا میں مُسلمان نہیں ہوں… قیامت کے دن آپ میرے اس خون کا حساب کیسے دیں گے؟میری یہ بات سن کر معتصم بہت متاثر ہوا اور قریب تھا کہ مجھے چھوڑ دینے کا حکم دے دیتا ۔
لیکن شریر لوگوں کی جماعت نے بھی یہ بات بھانپ لی۔ وہ پکار اُٹھے امیر المومنین! یہ شخص بدترین گمراہ ہے… سزا ضرور ملنی چاہیے۔آخر کوڑے مارنے والوں نے کوڑے مارنا شروع کیے۔جب پہلا کوڑا پڑا ٗ میں نے کہا ٗ بسم اللہ ! دوسرا کوڑا مارا گیا تو میں نے کہا لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔ تیسر کوڑا مارا گیا تو میں نے کہا ٗ القرآن کلام اللہادھر کوڑے مارنے والے کہتے تھےاللہ تمہارا برا کرے ٗ اپنی نافرمانی کا بدلہ چکھو۔مجھے یہاں تک کوڑے مارے گئے کہ میں بے ہوش ہو گیا۔ کوڑے روک دیے گئے… ہوش آیا تو معتصم نے پھر پوچھا. میں نے کوئی جواب نہ دیا تو کوڑے پھر برسنے لگے۔ غرض خلیفہ نے بار بار کوڑے لگوائے… آخر میں پھر بے ہوش ہو گیا۔ ہوش آیا تو ایک کوٹھری میں بند تھا۔ یہ واقعہ 25 رمضان المبارک سن 221 ہجری کا ہے۔ اس کے بعد خلیفہ نے مجھے میرے گھر پہنچانے کا حکم دیا. کہا جاتا ہے… آپ کو اسّی کے قریب کوڑے لگائے گئے۔ آپ کو گھر کی طرف لے جایا گیا تو راستے میں آپ اسحاق بن ابراہیم کے ہاں بھی ٹھہرے۔ آپ روزے سے تھے۔ کھانے کے لئے ستور وغیرہ لایا گیا تو آپ نے انکار کر دیا۔ اسی تکلیف کی حالت میں روزہ پورا کیا۔ ظہر کی نماز بھی جماعت سے پڑھی۔ کسی نے اشکال کیا. آپ نے خون بہنے کی حالت میں نماز پڑھی ہے؟آپ نے جواب دیاہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسی حالت میں نماز پڑھی تھی کہ ان کے زخم سے خون فوارے کی طرح نکل رہا تھا۔کوڑے لگنے کے وقت کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس وقت اپ کا ازار بند کھل گیا اور آپ کو بے ستر ہونے کا خوف لاحق ہو گیا تھا ٗ چنانچہ آپ نے ان الفاظ میں دُعا فرمائی تھیاے اللہ! اگر یہ مشقت میں حق کے لئے برداشت کر رہا ہوں تو میری ستر پوشی فرما۔آپ کی اس دُعا کی وجہ سے پاجامہ سرک کر اپنی جگہ پر آگیا اور بدن سے چمٹ گیا۔
جرح نے آپ کا علاج کیا اور آپ تندرست ہو گئے ٗ لیکن ان زخموں کی تکلیف موسمِ سرما میں عمود کر آتی تھی۔ وفات تک یہ صورت رہی۔ اپ نے معتزلہ کے سوا سب کے قصور معاف کر دیے۔ انہیں اس لیے معاف نہ کیا کہ وہ اہلِ بدعت تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھےاپنے کسی مومن بھائی کو اپنے لئے تکلیف دینا اچھا نہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب لوگون کو ان کے اعمال کی جزا دینے کے لئے بلائے گا تو وہی شخص پہلے جائے گا جس نے دُنیا میں کسی کا قصور معاف کیا ہوگا۔آپ کے ساتھ یہ حضرات بھی اسی مسئلے میں ڈٹے رہے اور شہادت پائی۔
محمد بن نوح نیشا پوری ٗ نعیم بن حماد خزاعی ٗ ابو یعقوب یوطی۔پھر آپ نے معتصم کو بھی معاف کر دیا۔ معتصم کے بعد واثق خلیفہ تھا ٗ یہ بھی معتزلی تھا۔ اس نے بھی اس مسئلے پر علماء کو جمع کیا اور خلقِ قرآن کے مسئلے میں انہیں مشکل میں ڈالا لیکن امام احمد بن حنبل کو اس نے نہیں چھیڑا۔ وہ جانتا تھا کہ انہیں ستانے کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔ البتہ اس نے امام صاحب کو یہ پیغام بھیج دیا کہ آپ اس شہر میں نہ رہیں ٗ چنانچہ امام صاحب واثق کے دور میں روپوشی کی زندگی بسر کرتے رہے۔واثق کے بعد متوکل خلیفہ ہوا۔ اس نے اس فتنے کو ختم کیا اور علماء کو ہدایت کی درس و تدریس کی مجلس قائم کیں اور معتزلہ اور اس جیسے دوسرے فرقوں کا رد کریں۔بندگان خدا کہ قید و بند کی ان مثالوں سے یہ نتائج واضح ہوتے ہیں کہ قید و بند کی مشقت اور اذیت سمیت مومن کو دی جانے والی تکالیف جو ہم جیسے دنیا دار لوگوں کے نزدیک اگرچہ سزا اور زیادتی ہے لیکن اللہ کے نزدیک یہ ایمان کی وہ ازمائش ہے جس کے ذریعے وہ منافقین اور مومنین کا فرق دنیا کے سامنے واضح کر دیتا ہے. لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ) (الأنفال: 37) یعنی "تاکہ اللہ خبیث کو طیب سے جدا کر دے اور خبیثوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر سب کو جمع کرے، پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے، یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں. وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ) (العنكبوت: 3)”اور بے شک ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے تھے، تاکہ اللہ جان لے کہ واقعی ایمان والے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں۔
ایک مومن، چاہے اسے کتنی ہی سخت آزمائش کا سامنا کیوں نہ ہو، وہ ان حالات کو اپنے صبر کو مضبوط کرنے، اپنی ہمت بڑھانے، اور اللہ پر اپنے بھروسے کو سچ ثابت کرنے کا موقع سمجھتا ہے۔ وہ ان مشکلات سے ایک بہتر اور مضبوط شخصیت کے ساتھ باہر آتا ہے، اور اس کا روحانی درجہ مزید بلند ہو جاتا ہے۔
قرآن مجید اسی فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتا ہے: (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ * الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) (البقرة: 155-156) یعنی "اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کسی قدر خوف، بھوک، اور مال، جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔”-کائنات میں حق و باطل کا معرکہ ازل سے جاری ہے لیکن قانون فطرت یہ ہے کہ باطل کی حمایت کرنے والے کا انجام برا ہوتا ہے اور حق ہی غالب آتا ہے. یہ فتح ظاہری طور پر ممکن ہے، یعنی باطل اپنے تمام وسائل کے ساتھ موجود ہو، لیکن فکری اور عملی طور پر حق اپنی جگہ ثابت کر لیتا ہے. لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (اور) یہ اس لیے تاکہ حق کو حق کر کے دکھلا دے اور باطل کو باطل کر کے۔ اگرچہ (ظلم و فساد کے) مجرم ایسا ہونا پسند نہ کریں۔یہی وجہ ہے کہ یزید کے تمام تر مظالم کے باوجود حسین اور ان کی نسل آج بھی محترم ہے اور یزید اتنا معطون ہے کہ جو اس کے نام کے ساتھ ملعون نہ لگائے اس کا دوسروں کی نظر میں ایمان ہی مشکوک ہو جاتا ہے.
اسی طرح عباسی خلفاء کا خاندان اپنے تمام تر مظالم، سیاسی تدبر، گمراہ کن عقائد سمیت دنیاکی بھیڑ میں نجانے کہاں گم ہو گیا لیکن اہل بیت کی نسل کشی کی تمام تر کوششوں کے باوجود امامین کی نسل جاری رہیی اور آج بھی ان کے علم سے کائنات کا گوشہ کوشہ جگمگا رہا ہے. اسی طرح احمد بن حنبل پر اپنے غلط نظریات تھوپنے والی اکٹریت وقت کی گرد میں معدوم ہو گئی لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کے مطابق اکثریت کے غلط نظریے کا رد کر کے مظالم اٹھانے والے فرد واحد کا علم اور ذات اج بھی زندہ ہے اور فیض عام کا باعث ہے.



















