زکریا یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران کا وی سی اور رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کے کیس دائر کرنے کا فیصلہ

19 اپریل اور 12 جولائی کو ہونے والے سلیکشن بورڈز میں 36 فیکلٹی ممبران کے کیسز ڈیفر کر دئیے گئے تھے جنھیں بعد میں منٹس تبدیل کر کے دیگر کی جگہ ریجیکٹ لکھ دیا گیا تھا۔
بی پی ایس فیکلٹی ممبران نے ان فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، ہائی کورٹ نے فیکلٹی ممبران کے موقف کو درست مانتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو دوبارہ سلیکشن بورڈ بلا کر پٹیشنرز کو سننے کا کہا تھا مگر رجسٹرار اعجاز احمد اور وائس چانسلر نے سلیکشن بورڈ نہیں بلایا کہا کہ ہم عدالت میں سپیکنگ آرڈر جمع کروا دیں گے۔
عدالت کی طرف سے دئیے گئے پندرہ دن گزرے آج مہینہ ہونے والا ہے مگر نہ تو سپیکنگ آرڈر جمع کروائے ہیں, بلکہ فیکلٹی ممبران نے سپیکنگ آرڈر کے لئے درخواست بھی جمع کروائی مگر انتظامیہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جس پر فیکلٹی ممبران نے توہین عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے،ان کا کہناہے کہ سلیکشن بورڈ کے غلط فیصلوں جن کے تحت ان فیکلٹی ممبران کو ریجکٹ کیا گیا، کو سینڈیکیٹ نے بھی منظور نہیں کیا بلکہ سینڈیکیٹ ممبران نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سلیکشن بورڈ کے منٹس بھی غلط ریکارڈ کئے گئے ہیں جو اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ رجسٹرار اور وائس چانسلر ممبران سینڈیکیٹ کو دھوکے میں رکھ کر اپنی مرضی سے کئے گئے غلط فیصلوں کی توثیق چاہتے ہیں جو کہ ممکن نہیں ہے۔



















