زکریا یونیورسٹی ملتان: اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے دھرنا اچانک ختم کردیا؛ فیکلٹی میں غم وغصہ کی لہر، صدر اور سیکرٹری پر شدید تنقید

اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نےاپنی مطالبات کی منظوری کےلئے ایک ہفتے سے جاری احتجاج کو اچانک ختم کردیا، جس سے شکوک کے بادل چھا گئے، اساتذہ میں مایوسی پھیل گئی۔
بدھ کی رات صدر اے ایس اے کی طر ف سے جاری ہونے والے پیغام میں کہا گیا کہ مذاکرات کےلئے دھرنا فوری ختم کیا جارہا ہےز جس سے یہ تاثر پھیل گیا کہ اے ایس اے دباو کا شکار ہوگئی۔
صدر اے ایس اے ڈاکٹر عبدلستار ملک کی جاری ہونے والے پیغام میں کہا گیا کہ اے ایس اے کی قیادت میں جدوجہد کا حصہ بننے کے لئے تمام کمیونٹی کا شکر گزار اور قابل احترام ہوں، بی زیڈ یو کے اساتذہ نے ایڈمن بلاک کے سامنے پرامن دھرنا دیا۔
اے ایس اے نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ہم بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، ہم سے رابطہ کیا گیا ہے او کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے لیے وقت دیا جائے۔ہم پرعزم ہیں کہ اگر مسائل بات چیت سے حل ہو جائیں تو اس سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے، اسی مناسبت سے دھرنا ملتوی کیا جا رہا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہم کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ میسج منظر عام پر آتے ہی فیکلٹی میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور صدر اور سیکرٹری کو آڑے ہاتھوں لیا اور اے ایس اے کو تحلیل کرُکے نئے الیکشن کرانے کا مطالبہ کردیا، ان کا کہنا تھا کہ اے ایس اے کا دھرنا بری طرح ناکام ہوگیا، اے ایس اے نے اساتذہ کا ورک لوڈ بڑھانے اور ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر سیلیکشن بورڈ کے خلاف ایک ہفتہ سے جو ہڑتال کی کال دی ہوئی تھی پھرکچھ وجوہات کی بنیاد پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا، اس منافقانہ رویے پر اساتذہ نے افسردہ ہیں۔
جب صدر ڈاکٹر عبدالستار کا سلیکشن بورڈ تھا تو اے ایس اے اور بزوٹا نے وائس چانسلر آفس کا گھیراؤ کر کے دھونس سے ان کی پروفیسر کی سلیکشن کروا لی تھی اور اب دکھاوا کے لئے ایک دن کا دھرنا دیا جو کہ انتظامیہ سے بات چیت سے پہلے ہی ختم کر دیا۔
اساتذہ کا متفقہ مطالبہ ہے اب اے ایس اے7مئی کو ایک سال کا دورانیہ مکمل کرنے بعد اپنا قانونی جواز کھو بیٹھی ہے، اس لئے فوری طور پر اے ایس اے کو تحلیل کرکے نئے الیکشن کے شیڈول کا اعلان کیا جائے۔
دوسری طرف یونیورسٹی میں دھرنا ختم ہونے کی خبر ‘ٹاک آف دی ٹاون’ بنی رہی، سارا دن اساتذہ دھرنا ختم کرنے کی وجہ پوچھتے رہے، لیکن اے ایس اے حکام کی طرف سے صرف یہ کہا گیا کہ انتظامیہ سے مذاکرات کریں گے، جس پر اساتذہ بہت افسردہ نظر آئے ۔




















