Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ویمن یونیورسٹی ملتان : سیکورٹی ایمرجنسی نافذ، عملے کےلئے ڈیوٹی ٹائم میں کیمپس سے نکلنے پر پابندی عائد

ویمن یونیورسٹی ملتان میں اچانک سیکورٹی ایمرجنسی نافذ کردی گئی، جس کو ملازمین اور افسر ناپسندیدہ اور کار سرکار میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سینئر ڈپٹی رجسٹرار ایڈمن اورچیف سیکورٹی آفیسر دی ویمن یونیورسٹی ملتان عرفان حیدر نے مراسلہ جاری کیا کہ آج کل ہمارے ملک میں سیکورٹی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئےیونیورسٹی کی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کچھ ضروری حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں اور ایک گھنٹہ کی رعایت دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ تمام یونیورسٹی انتظامیہ، فیکلٹی، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پریس اینڈ ٹرانسپورٹ افسران اور اہلکار صبح نو بجے سے تین بجے تک کے اوقات کارپر عمل پیرا ہوں، کسی بھی ہنگامی صورتحال کے بغیر کیمپس کو نہ چھوڑیں۔

اس کے علاوہ یونیورسٹی کے احاطے سے نکلنے کے لیے مجاز اتھارٹی ( وائس چانسلر) کی طرف سے منظور شدہ تحریری اجازت نامہ دکھائیں، جوسیکورٹی اہلکار چیک کرسکتے ہیں۔

اسی طرح ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئر سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ طالبات کی یونیفارم کو یقینی بنائیں اور یونیورسٹی اوقات میں ڈسپلن کو چیک کریں، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو اپنے عملے کے نظم و ضبط اور اوقات کو برقرار رکھنے کی سخت ضرورت ہے، ٹرانسپورٹ آفس کو اپنے عملے کی مکمل اور کڑی نگرانی کرنی چاہیے اور ان کی ڈرائیونگ پیشہ ورانہ مہارت اور وقت کی پابندی کو یقینی بنانا چاہیے۔

گیٹ پر موجود سیکورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس پالیسی کو نافذ کریں،تمام افسران اور اہلکاروں کوہدایت کی جاتی ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی/کام کی صورت میں اپنا اجازت نامہ اپنے ساتھ رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی تکلیف یا ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے،کسی بھی عدم تعمیل کی صورت میں انضباطی کارروائی کی باضابطہ درخواست موقع پر ویڈیو ثبوت کے ساتھ اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی۔

اس مراسلے کے بعد یونیورسٹی کی فیکلٹی اور افسروں میں شدید بےچینی اور غم وغصہ پایا جا رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ حد سے تجاوز اور کار سرکار میں مداخلت ہے ، ڈپٹی رجسٹرار کس طرح سینئر افسروں یا اساتذہ کو ہدایت کرسکتا ہے، جبکہ ملک میں کوئی ایمرجنسی نہیں ہے، سیکورٹی پہلے ہی سخت ہے اگر یونیورسٹی میں نیا ڈسپلن پلان نافذکرنا تھا تو یہ وائس چانسلر یارجسٹرار کی طرف سے جاری ہونا چاہیے تھا ،ڈپٹی رجسٹرار چیف سیکورٹی آفیسر نے خلاف قانون تذہیک آمیز مراسلہ جاری کیا جو افسوس ناک اور قابل مذمت ہے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button