ویمن یونیورسٹی اور ‘تھاپ’ میں روایتی فنون کو محفوظ بنانے کےلئے ایم او یو سائن ہوگیا

ویمن یونیورسٹی ملتان اور تھاپ ’’ٹرسٹ فار ہسٹری آرٹ اینڈ آرکٹیکچرآف پاکستان‘‘ کے درمیان ایم او یو سائن ہوگیا، دونوں ادارے ملکر روایتی فنون کو محفوظ بنانے کےلئے کام کریں گے۔
ترجمان کے مطابق ویمن یونیورسٹی ملتان اور تھاپ کے درمیان ایم او یو سائن ہوگیا، جس کا مقصد اکیڈمیا اور ہنرمندوں کے درمیان فرق ختم کرنا، دونوں اداروں کے درمیان وسائل، مہارت اور نیٹ ورکس کا اشتراک بنان روایتی دستکاریوں اور مہارتوں کو منظم اپرنٹس شپ اور بین نسلی علم کی منتقلی کے ذریعے محفوظ کرنا، جدید سیاق و سباق میں روایتی دستکاری کی ثقافتی مطابقت کو برقرار رکھنا، غیر محسوس ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا، نوجوان مردوں اور عورتوں کے لیے کاروباری مہارت اور معاش کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک اپرنٹس شپ پروگرام نافذ بنانا، ملتان کے سینئر اساتذہ کے تجربے کے سے فائڈہ اٹھانے کے لئے طلباء کے درمیان پل کا کرنا ادا کرنا ہے۔
ایم او یو کی تقریب کچہری کیمپس میں منعقد ہوئی، جس میں پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اورتھاپ کی سی ای او ساجدہ وندال نے دستخط کیے۔
تقریب میں رجسٹرار ڈاکٹر ملکہ رانی، ڈاکٹر عاصمہ اکبر سونیا ناصر (ٹیچر انچارج شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن) اور ڈاکٹر سمیرا محبوب (ٹیچر انچارج شعبہ تاریخ اور پاک سٹڈیز) اور دیگر فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ یہ معاہدہ اکیڈمیا کوہنرمندوں سے جوڑنے اور طلباء کو پاکستان کے شاندار ثقافتی ورثے تک رسائی فراہم کرنے میں مدد کرے گا۔
ملتان کی سرزمین ثقافت کے رنگوں رنگی ہے ، اس کی ہوا میں دستکاریوں کا تال میل ہے اور یہاں کے لوگوں نے ان خزانوں کی حفاظت کی ہےتھاپ کے ساتھ مل کر، ہم اپنے ثقافتی ورثے دنیا کے ساتھ لانا چاہیں گے، طالبات کو پاکستان کی بھرپور فنی میراث کے سفیر بننے کے لیے بااختیار بنائیں گے۔
ساجدہ وندال نےکہاکہ روایتی دستکاریوں کا تحفظ نہ صرف ثقافتی شناخت کے لیے ضروری ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے معاش کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھی ضروری ہے، ہمارا ادارہ 2006 میں قائم کیا گیا، ہماری خاص توجہ اساتذہ پر ہے کیونکہ وہ راہنمائی کریں گے، اور ہمیں ایک روشن مستقبل کی امید دلا سکتے ہیں ، ایک ایسا مستقبل جو یکجائی سوچ کے ساتھ جمود کا شکار نہیں ہے لیکن جس میں ہزار پھولوں کی اقسام ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سالانہ بنیادوں پر بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جبکہ سال بھر سیمینارز، کالوکوئیمز، مشاورتی میٹنگز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
تھاپ تاریخ، روایت اور ثقافت کے درمیان تعلق کو تسلیم کرتا ہے، بعد ازاں دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔



















