Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی : شعبہ فاریسٹری کے چیئرمین زیادتی اور ہراساں کرنے کے الزام میں معطل

زکریا یونیورسٹی میں ہراساں کرنےکا ایک او رکیس سامنے آیا، جس میں فاریسٹری کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر (ش ا) نے اپنے ہی شعبے کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر احسان قادر کے خلاف ریپ ، جسمانی تشدد ، ہراسانی اور سنگین دھمکیوں کی شکایت جمع کروائی اور پولیس کو کال بھی کردی، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور وقوع کا جائزہ لیا۔

پولیس کی دی گئی درخواست میں متاثرہ نے موقف اختیار کیا ہےکہ 25 ستمبر کو چیئرمین احسان بھابھہ نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا، دھمکیاں دیں اور پھر مجھے جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر، چہرے اور جسم پر تھپڑ مار کر اور میرے بالوں کو بے دردی سے کھینچ کر معاملے کو بڑھا دیا، تشدد کا یہ گھناؤنا فعل بی ایس فاریسٹری، 5ویں سمسٹر کی ایک طالبہ کے پس منظر میں پیش آیا، جو چیئرمین سے ایک غیر منصفانہ کام کروانا چاہتی تھی، وہ چاہتی تھی کہ ٹیچر کو اپنے رزلٹ میں تبدیلی کے لیے کنٹرولر امتحانات کو خط لکھنے کی ہدایت کی جائے، میں نے اپنی پیشہ ورانہ رائے کا اظہار کیا کہ تعلیمی طریقہ کار میں اس طرح کی مداخلت غیر اخلاقی اور غیر منصفانہ ہے، میرے انکار پر چیئرمین جارحانہ ہو گئے۔

صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اور اپنے وقار کو بچانے اور طالب علم کو نامناسب طرز عمل دیکھنے سے روکنے کے لیے، میں نے شائستگی سے اس سے دفتر سے باہر نکلنے کی درخواست کی۔ اس کے فوراً بعد اس نے مکمل طور پر بلا اشتعال اور پرتشدد انداز میں مجھ پر جسمانی حملہ کیا۔

اس وقوع کے بعد میں نے اہل خانہ سے مشاورت کی اور باقاعدہ اس کی رپورٹ کرارہی ہوں، اس دوران چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر احسان نے مجھے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر میں نے اس واقعے کی اطلاع دی تو مجھے جان سے مار دیا جائے گا، میری جان کو لاحق اس خطرے نے مجھے شدید خوف اور مزید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے میرے لیے اپنے کام کی جگہ پر محفوظ محسوس کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

چیئرمین کا طرز عمل یونیورسٹی کے قوانین، کام کی جگہ پر ہراساں کرنے اور تشدد کی پالیسیوں اور بنیادی انسانی شرافت کی واضح اور سنگین خلاف ورزی ہے، اس طرح کا رویہ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ مجرمانہ نوعیت کا بھی ہے اور اس سے سختی اور بلاتاخیر نمٹا جانا چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس درخواست پر وائس چانسلر نے فوری طور پر کیس ہراسمنٹ کمیٹی کو بھجوادیا گیا اور پولیس کو بھی رپورٹ کردی گئی، ہراسمنٹ کمیٹی کی ابتدائی سماعت کے بعدیونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری ایکشن لیتے ہوئے پروفیسر احسان قادر کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹا کر تاحکم ثانی فوری طور پر معطل کردیا ہے اور چیئرمین شپ سے بھی ہٹادیا ہے۔

دوسری طرف ذرائع کاکہنا ہے کہ ڈاکٹر احسان قادر اور مذکورہ خاتون پروفیسر نے نکاح کیا ہوا تھا، ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ پر پہلی اہلیہ کا دباؤ تھا، تاہم یہ رشتہ ڈیکلیئر نہیں کیا گیا تھا۔

گزشتہ روز جب ڈاکٹر احسان نے ذمےدار افسروں کو بتایا کہ خاتون ان کی منکوحہ ہیں تو خاتون پروفیسر کا کہنا تھا کہ ان کے درمیان طلاق ہوچکی ہے، اب کوئی رشتہ باقی نہیں رہا ۔

ہراسمنٹ کمیٹی فیصلے کی روشنی میں ڈاکٹر احسان کو معطل اور چیئرمین شپ سے ہٹادیا گیا اور پولیس نے ایف آئی آر بھی درج کرلی، جس میں درخواست دہندہ کیطرف سے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button