زکریا یونیورسٹی : ہراسگی کیس؛ پروفیسر گرفتار، تین روزہ ریمانڈ، ابتدائی طبی معائنے میں الزامات کی تصدیق

زکریا یونیورسٹی کے شعبہ فاریسٹری ہراسگی کیس میں نیا موڑ آگیاب، دھ کی شب پولیس نے متاثر ٹیچر کی شکایت پر درج ہونے والی ایف آئی آر کی بنیاد پر چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کو گرفتار کرلیا جن کو گزشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا جس نے پولیس کو تین روزہ ریمانڈ دے دیا، ان پر ریپ ، جسمانی تشدد، ہراسانی اور سنگین دھمکیوں کی شکایت جمع کرائی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی : شعبہ فاریسٹری کے چیئرمین زیادتی اور ہراساں کرنے کے الزام میں معطل
دوسری طرف نشتر ہسپتال ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ کے ابتدائی طبی معائنے میں الزامات کی تصدیق ہوئی ہے، جس میں جنسی تعلق قائم کیا گیا ہے تاہم ریپ کے شواہد نہیں ملے، اس کیس کی فائنل رپورٹ لاہور لیبارٹری سے آئے گی جو جدید آلات سے کیس کا معائنہ کریں گے ۔
یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس میں متاثر خاتون جس کے بارے میں پروفیسر احسان نے بیوی ہونے کا دعویٰ کیا تھا کا طلاق نامہ بھی سامنے آگیا، جس کےمطابق دونوں کی شادی 30 نومبر 2023 کو ہوئی جب کہ 13 فروری 2024 کو طلاق ہوگئی دی گئی، دو جولائی 2024 کو طلاق موثر ہوگئی، نادرا سے طلاق سرٹیفکٹ جاری کردیا گیا۔
اس معاملے کو لیکر یونیورسٹی میں سارادن چہ میگوئیاں ہوتی رہیں کہ وائس چانسلر نے تنقید کرنے پر احسان بھابھہ کے خلاف پولیس کارروائی تیزی سے مکمل کرائی، جس میں رجسٹرار کی مشاورت شامل تھی، جس پر اساتذہ کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آرہا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ متاثرہ خاتون ٹیچر کیس کو منطقی انجام پر پہنچانے کےلئے بہت بے چین ہے اور کیس کی پیروی کسی بھی سطح پر کرنے کوتیار ہے، قانونی مسائل کی وجہ سے چیئرمین کو فوری عہدے سے ہٹانا پڑا، جبکہ کیس سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو وزیر اعلیٰ پنجاب کی بھی دلچسپی بڑھ گئی،انہوں نے فوری طور پر ذمے دار کےخلاف کارروائی کی ہدایت کی، جس کے بعد پروفیسر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ آفس کیس میں ہونے والی پیش رفت کو ہر گھنٹے میں رپورٹ کر رہا ہے، جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کی کسی میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔


















