زکریا یونیورسٹی : خودکشی کرنے والے طالب علم کا پوسٹ مارٹم مکمل، لاش آبائی گاؤں روانہ کر دی گئی

اتوار کی شام زکریا یونیورسٹی کے شعبہ سائیکالوجی سے تعلق رکھنے والے محمد ریاض نے اپنے ہاسٹل ابوبکر ہال کے کمرہ نمبر چھ میں چھت سے لٹک کر جان دے دی تھی، انہیں بروقت طبی امداد دیتے ہوئے ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں دم توڑ گئے۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی کے طالب علم نے ہاسٹل میں خود کشی کرلی
جس کے بعد ڈاکٹر نے ان کا پوسٹ مارٹم کیا اور ابتدائی طور پر ڈاکٹرز کے مطابق گلے میں پھندہ لینے سے ان کی موت واقع ہوئی ہے، تاہم تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ تین روز بعد جاری کی جائے گی۔
دریں اثناء زکریا یونیورسٹی حکام نے خودکشی کرنے والے طالب علم کے والدین سے رابطہ کیا تو انہوں نے ڈیڈ باڈی کو آبائی گاؤں بھجوانے کی اپیل کی، جس کی منظوری دیتے ہوئے وائس چانسلر نے آر او ڈاکٹر مقرب کو فوری طور پر مرحوم کی ڈیڈ باڈی کو بلوچستان روانہ کرنے کی ہدایت کی، جس پر محمد ریاض کا جسد خاکی یونیورسٹی ایمبولنس میں ڈکی بلوچستان روانہ کر دی گئی۔
علاوہ ازیں گزشتہ روز زکریا یونیورسٹی میں زیر تعلیم بلوچ نے احتجاج کیا ان کا کہنا تھا کہ طالب علم کو بروقت ہسپتال لے جایا جاتا تو اس کی جان بچائی جا سکتی تھی، تاہم انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ شواہد کے بعد طلباء نے اپنا احتجاج منتشر کر دیا۔
یونیورسٹی حکام کا کہنا تھا کہ خودکشی کی اطلاع ملنے کے بعد 12 منٹ کے اندر ایمبولنس ہاسٹل گیٹ پر موجود تھی، جس پر اس کو فوری طور پر ہسپتال روانہ کیا گیا تاہم طلباء کا یہ مطالبہ کہ ایمبولنس میں اکسیجن سلنڈر کی فراہمی اور اتوار کے روز بھی میڈیکل سینٹر میں ڈاکٹر کی موجودگی یقینی بنائی جائے کو منظور کر لیا گیا ہے اور آئندہ چند روز میں اس کی باقاعدہ منظوری دے دی جائے گی۔
دوسری طرف پولیس نے ضابطہ کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے رپورٹ درج کرلی ہے ۔




















