پنجاب بھر کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کی تبدیلی اور مراکزِ تعلیم کی ازسرِنو تنظیم کے لیے حکم جاری

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کے تمام اضلاع میں مراکزِ تعلیم کی ازسرِنو تنظیم، سرکاری اسکولوں کی نئی الاٹمنٹ اور اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران کی شفلنگ کا جامع پلان جاری کر دیا ہے، پلان مکمل ہونے تک کوئی بھی اے ای او اپنے موجودہ مرکز میں برقرار نہیں رہے گا۔
مراکز کی جغرافیائی حدود نئی ترتیب کے تحت متعین کی جائیں گی تاکہ ہر مرکز میں 15 سے 20 اسکول شامل ہوں اور ان تمام اسکولوں کا فاصلہ 15 سے 20 کلومیٹر کے اندر ہو، جس سے تعلیمی نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
کم اسکولوں والے موجودہ مراکز کو قریبی مراکز میں ضم کیا جائے گا جبکہ ہر مرکز کے اسکول ایک دوسرے کے قریب رکھے جائیں گے تاکہ پیڈاگوجیکل سپورٹ اور انتظامی امور بہتر طریقے سے انجام دیے جا سکیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیف کے آؤٹ سورس کیے گئے اسکول مراکز کی تشکیل میں شامل نہیں ہوں گے اور مرد اے ای اوکو لڑکوں کے اسکول جبکہ خواتین اے ای اوز کو لڑکیوں کے اسکول الاٹ کیے جائیں گے، اسی طرح کنسولیڈیٹڈ اور ماڈل پرائمری اسکول بھی خواتین افسران کے سپرد کیے جائیں گے۔
اس عمل میں پہلے مستقل طور پر تعینات اے ای اوکو ترجیح دی جائے گی جبکہ اے ای او اور ایس ایس ای کی بنیاد پر تعینات افسران کو اگلی ترجیح ملے گی اور بعد ازاںایس ایس ٹیز کی ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔
ایسے تمام ایس ایس ٹیز اور ایس ایس ایز جو اضافی طور پراے ای او کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں دوبارہ محکمے کے اختیارات میں دیا جائے گا اور بعد ازاں سٹافنگ کی ضروریات کے مطابق تعینات کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کے مطابق نئی پوسٹنگز کے دوران افسران کے میرٹ کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحاتی عمل تعلیمی نظام کی بہتری، اسکولوں کی کارکردگی میں اضافہ اور مانیٹرنگ کے مؤثر نظام کی تشکیل کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔


















