Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

نجی سکولوں میں مونوگرام والی نوٹ بکس، ورک بکس اور یونیفارم کی مشروط فروخت نہ رک سکی

متعدد نجی اسکول طلباء اور والدین کو مہنگی لوگو والی کاپیاں، اسٹیشنری اور یونیفارمز خریدنے پر مجبور کرتے ہیں جو کہ کمپٹیشن ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہے، مختلف اسکولوں نے مخصوص وینڈرز کے ساتھ خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں جبکہ لوگو والی کاپیاں عام مارکیٹ کے مقابلے میں 280 فیصد تک زیادہ قیمت پر فروخت کی جارہی ہیں۔

بچوں کے داخلے کے بعد والدین ’’محصور کنزیومر‘‘ بن جاتے ہیں اور مہنگی مصنوعات کے بجائے سستے متبادل خریدنے کا حق کھو بیٹھتے ہیں، ملک کے تقریباً 50 فیصد طلباء نجی اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں لہٰذا ان پالیسیوں سے لاکھوں خاندان متاثر ہوتے ہیں نجی اسکول اپنی مارکیٹ پاور کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے والدین پر ایسے تجارتی فیصلے مسلط کرتے ہیں جو نہ صرف غیرمنصفانہ ہیں بلکہ طلباء کے تعلیمی اخراجات میں غیرضروری اضافہ بھی کرتے ہیں۔

والدین نے حکومت سے مطالبہ کیاہے مسابقتی کمیشن کےفیصلے پر عمل کرایا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button