Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی : مالی بحران میں مہنگی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

مالی مشکلات اور معاشی دباؤ کا شکار زکریا یونیورسٹی ملتان میں مہنگی سرکاری گاڑیوں کی خریداری کی تیاری نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

ایسے وقت میں جب یونیورسٹی کو تدریسی، تحقیقی اور انتظامی سطح پر شدید مالی مسائل کا سامنا ہے، ٹرانسپورٹ آفس کے لیے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کی گاڑیاں خریدنے کی تجویز سامنے آنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

مراسلے کے مطابق یونیورسٹی کے ٹرانسپورٹ آفس نے قابلِ استعمال گاڑیوں کی قلت کو بنیاد بناتے ہوئے دو نئی گاڑیوں کی خریداری کی سفارش کی ہے، جن میں سے ایک پروٹوکول استعمال کے لیے مہنگی اور پریمیم کیٹیگری کی گاڑی تجویز کی گئی ہے اس گاڑی کے لیے 12.5 ملین روپے جبکہ دوسری گاڑی کے لیے 6.5 ملین روپے کی مالی حد مقرر کی گئی ہے، یوں مجموعی طور پر تقریباً دو کروڑ روپے کی خریداری کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

ٹرانسپورٹ کمیٹی کے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ وی آئی پی بیڑے میں شامل گاڑیاں فرسودہ ہو چکی ہیں اور اکثر مرمت کے باعث دستیاب نہیں ہوتیں، کار نمبر MNJ-185 (ماڈل 2017) دو لاکھ اسی ہزار کلومیٹر سے زائد چل چکی ہے جبکہ کار نمبر MNJ-1028 (ماڈل 2012) چھ لاکھ دس ہزار کلومیٹر سے زیادہ سفر کر چکی ہے، جس کے باعث اہم شخصیات اور غیر ملکی وفود کی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔

تاہم یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے نازک معاشی حالات میں جب ملازمین کو واجبات کی ادائیگی میں تاخیر، شعبہ جات کو فنڈز کی کمی اور بنیادی تعلیمی سہولیات متاثر ہو رہی ہوں، وہاں پریمیم گاڑیوں کی خریداری ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے کہ وسائل کا رخ تدریسی معیار، تحقیق، لیبارٹریز، ہاسٹل سہولیات اور طلبہ کی فلاح کی جانب موڑا جائے، نہ کہ مہنگے پروٹوکول پر۔

ذرائع کے مطابق خریداری کے لیے متعلقہ بجٹ ہیڈ (کوڈ نمبر 2010006) کے تحت فنڈز دستیاب ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور معاملہ خریداری سیکشن کو پی پی آر اے قوانین کے مطابق کارروائی کے لیے بھجوایا جا رہا ہے، تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا موجودہ معاشی بحران میں اس مد میں اخراجات واقعی ناگزیر ہیں یا نہیں، حیران کن امر یہ ہے کہ یہ سفارش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یونیورسٹی کے متعدد شعبہ جات فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق کئی تعلیمی و انتظامی یونٹس کو روزمرہ اخراجات، مرمت، لیبارٹری آلات اور تحقیقی سرگرمیوں کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے، جبکہ ملازمین میں واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونے پر تشویش پائی جاتی ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پروٹوکول گاڑی کے لیے دیپل S05، ہیول H6 یا جیکو J5 (پریمیم) جیسے مہنگے ماڈلز تجویز کیے گئے ہیں، جو نہ صرف مالی بوجھ بڑھائیں گے بلکہ یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے کے لیے غیر معمولی اخراجات کے مترادف ہیں۔

ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ کفایت شعاری کے دعوؤں کے سراسر منافی ہے، یونیورسٹی کے اس فیصلے پر اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کے حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ان مطالبہ ہے کہ مہنگی گاڑیوں کی خریداری پر نظرِ ثانی کی جائے اور محدود وسائل کو تعلیمی و تحقیقی ضروریات پر خرچ کیا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button