زکریا یونیورسٹی : اساتذہ کو معمولی مراعات دے کر لگژری گاڑیوں کی منظوری لے لی گئی

2 مالی خسارے، گاڑیوں کی قلت اور بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار زکریا یونیورسٹی ملتان کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کروڑوں روپے کی لگژری گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دے دی گئی، جس نے یونیورسٹی کی مالی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی : مالی بحران میں مہنگی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ
اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں متعدد اہم اور حساس ایجنڈا آئٹمز عجلت میں منظور کر لیے گئے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ آخری سرکاری گاڑی 2017 میں خریدی گئی تھی، جو اب ناکارہ ہو چکی ہے اور اس کی مرمت پر بھاری اخراجات آ رہے ہیں، اسی جواز کی بنیاد پر ایک لگژری گاڑی، جس کی مالیت کم از کم ایک کروڑ 20 لاکھ روپے بتائی گئی، اور ایک اسٹاف کار جس کی قیمت 65 لاکھ روپے تک ہے، خریدنے کی منظوری مانگی گئی۔
غیر ملکی وفود اور پروٹوکول مہمانوں کے لیے ایک لگژری گاڑی خریدنے کا حیران کن طور پر یہ فیصلہ اُس وقت کیا گیا جب یونیورسٹی کا ٹرانسپورٹ آفس قابلِ استعمال گاڑیوں کی شدید قلت کا شکار ہے اور شعبہ جات کو روزمرہ سرکاری امور کے لیے گاڑیاں دستیاب نہیں ہیں۔
اجلاس کے دوران اے ایس اے اور دیگر نمائندگان نے اس غیر معمولی اخراجات پر اعتراض بھی اٹھایا، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ نے اساتذہ کے لیے پارٹ ٹائم اور ہاٹ ٹائم ٹیچنگ معاوضوں میں اضافے کو “ڈیل” کے طور پر پیش کیا اساتذہ کے معاوضوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی، جس میں سے ساڑھے سات فیصد فوری جبکہ باقی ساڑھے سات فیصد آئندہ مالی سال کے بجٹ سے مشروط کر دیا گیا۔
اس اقدام کا مقصد مزاحمت کو کمزور کرنا اور متنازع گاڑیوں کی خریداری کی راہ ہموار کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسسٹنٹ پروفیسرز کی 22 نئی اسامیوں کی منظوری بھی دی گئی، جو اُن اساتذہ کے لیے تخلیق کی گئیں جو برسوں سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے باوجود لیکچرر کے عہدوں پر کام کر رہے تھے۔
اس فیصلے کے بعد یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامیوں کی مجموعی تعداد 52 ہو جائے گی اگرچہ یہ فیصلہ بظاہر اساتذہ کے حق میں دکھائی دیتا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا مستقل مالی منصوبہ بندی کے بغیر نئی اسامیوں کا بوجھ اٹھانا یونیورسٹی کے لیے ممکن ہو گا۔
علاوہ ازیں وائس چانسلر کی جانب سے ایک اور حساس ایجنڈا پیش کیا گیا جس کے تحت انٹرنیشنل پروجیکٹس سے حاصل ہونے والے غیر ملکی فنڈز کے استعمال کا اختیار چانسلر آفس اور دیگر غیر متعلقہ شعبوں کو دینے کی تجویز شامل تھی تاہم فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے ممبران نے اس تجویز کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا۔
اراکین کا مؤظقف تھا کہ ڈونر ایجنسیوں کے فنڈز کے لیے واضح قوانین، آڈٹ شرائط اور عالمی مالی ضابطے موجود ہیں، جن کی خلاف ورزی یونیورسٹی کو سنگین قانونی اور مالی مشکلات سے دوچار کر سکتی ہے جس پر ایجنڈہ موخر کردیا گیا۔
یونیورسٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ مالی بحران کا شکار ادارے میں لگژری گاڑیوں کی خریداری انتظامی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں تدریسی، تحقیقی اور بنیادی سہولیات کے بجائے پروٹوکول کلچر کو فوقیت دی جا رہی ہے جب یونیورسٹی معمولی اخراجات کے لیے بھی فنڈز کی کمی کا شکوہ کرتی ہے تو پھر کروڑوں روپے کی گاڑیاں کس منطق کے تحت ضروری قرار دی جا رہی ہیں۔




















