ویسٹ مینجمنٹ کے سینٹری ورکر پر شہری کا تشدد، ٹانگ توڑ دی

ملتان میں صفائی کے فرائض انجام دینے والے سینٹری ورکر پر تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں موٹر سائیکل پر گرد پڑنے کے معمولی تنازع پر شہری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ ورکر مظہر عباس ولد محمد ایوب نے تھانہ بی زیڈ کے ایس ایچ او کو دی گئی تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ بطور سینٹری ورکر خدمات سر انجام دے رہا ہے، دوپہر تقریباً 2 بج کر 45 منٹ پر رشید آباد میں فاطمہ میڈیکل سینٹر کے سامنے صفائی کا کام کر رہا تھا کہ قریبی فوٹو اسٹیٹ شاپ کے باہر موجود افراد نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جھاڑو دینے کے باعث ان کی موٹر سائیکل گرد آلود ہو گئی ہے اور اس کو تشد کانشانہ بنانا شروع کردیا اور ظالمانہ طریقے سے لاتوں، گھونسوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی ٹانگ کی ہڈی فریکچر ہو گئی جبکہ آنکھ کے نیچے شدید چوٹ لگنے سے آنکھ سے خون بہنا شروع ہو گیا۔
موقع پر پر سپروائزر کو فون کے ذریعے آگاہ کیا گیا، جس کے بعد اہلِ علاقہ خلیل الرحمن اور دیگر افراد موقع پر پہنچے اور متاثرہ ورکر کی تشویشناک حالت دیکھتے ہوئے 15 پر کال کر کے ریسکیو 1122 کو طلب کیا۔
ریسکیو ٹیم نے زخمی کو فوری طبی امداد فراہم کی پولیس نے موقع پر پہنچی اور تشدد میں ملوث دو نامعلوم نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔
متاثرہ سینٹری ورکر نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ اسے انصاف فراہم ہو سکے۔
واضح رہے کہ مظہر عباس کا تعلق سکندر آباد تحصیل شجاع آباد ضلع ملتان سے ہے، دریں ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مذکورہ ملزم رشوت لیکر چھوڑ دئے ہیں ان سے درخواست بھی وصول نہیں کی جارہی تھی جو اب فرنٹ ڈیسک پر جمع کرادی گئی ہے آج کمپنی کے افسر پولیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات بھی کریں گے۔




















