زکریا یونیورسٹی ہراسمنٹ کیس میں نیا موڑ؛ پروفیسر ملزم قرار، پولیس اہلکار کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش

زکریا یونیورسٹی کے ایک نہایت حساس مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ملتان کی ہدایت پر کی جانے والی دوبارہ انکوائری کی تفصیلی رپورٹ منظرِ عام پر آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی ہراسمنٹ کیس: کمیٹی بنا دی گئی
رپورٹ میں واقعے کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ابتدائی تفتیش میں مبینہ غفلت اور جانبداری کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
نئی تفتیش میں ڈاکٹر احسان قادر بابا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، جبکہ پہلی انکوائری کرنے والے سب انسپکٹر شان علی (ڈی ایچ اے) کے خلاف بھی سخت قانونی و محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی ریپ کیس : ملزم کا جوڈیشل ریمانڈ؛ انکوائری افسر کا مناسب مواد موجود ہونے کا دعویٰ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 25 ستمبر 2025 کو زنا (زیادتی) سے متعلق مقدمہ درج کیا گیا، جس کے دوران سامنے آنے والے حالات و واقعات کو نہایت اہم قرار دیا گیا ہے۔ تفتیش کے مطابق متاثرہ خاتون ڈاکٹر شازیہ افضل نے مزاحمت کی جس کے نتیجے میں وہ فرش پر گر گئیں اور ان کی تسبیح بھی ٹوٹ گئی۔
مزید برآں، رپورٹ میں اس امر کو غیر معمولی قرار دیا گیا کہ ایک ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی موجودگی میں دفتر کے اندرونی معاملات میں غیر فطری طرزِ عمل اختیار کیا گیا، جیسے کسی ملازم کو بلانے کے بجائے خود ہی کرسیوں کی ترتیب درست کرنا۔ خاص طور پر یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ جب کمرے میں موجود آخری غیر متعلقہ شخص باہر چلا گیا تو اس کے بعد دروازہ اندر سے بند کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حالات نے مبینہ طور پر زنا جیسے فعل کے ارتکاب کو تقویت دی۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی : شعبہ فاریسٹری کے چیئرمین زیادتی اور ہراساں کرنے کے الزام میں معطل
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مقامی پولیس نے تفتیش کے دوران ملزم اور متاثرہ خاتون کے ڈی این اے سیمپلز لاہور بھجوا دیے تھے، تاہم تاحال اس کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی، واضح کیا گیا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد ہی زنا کے الزام پر حتمی رائے قائم کی جائے گی، تاہم موجودہ حالات و واقعات اور شواہد ایف آئی آر کے متن کی تائید کرتے ہیں اور ملزم کو دیگر جرائم میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی : ہراسگی کیس؛ پروفیسر گرفتار، تین روزہ ریمانڈ، ابتدائی طبی معائنے میں الزامات کی تصدیق
تفتیش میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ اور ڈاکٹر شازیہ افضل کے درمیان ماضی میں قریبی تعلقات موجود رہے، رپورٹ کے مطابق ٹیلی فون ریکارڈ اور واٹس ایپ چیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وقوعہ سے تقریباً 14 سے 15 دن قبل دونوں کے درمیان میاں بیوی جیسے تعلقات تھے، جس کے شواہد بھی حاصل کر لیے گئے ہیں، مزید یہ کہ ملزم نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے 13 فروری 2025 کو ڈاکٹر شازیہ افضل کو طلاق دی، جبکہ 6 جولائی 2024 کو نادرا میں طلاق کے اندراج کا ریکارڈ بھی موجود ہے، جس سے دونوں کے تعلقات کی نوعیت اور بعد کے حالات مزید واضح ہوتے ہیں۔
انکوائری رپورٹ میں اس واقعے کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر پی ایچ ڈی پروفیسرز کے روپ میں ایسے کردار کے حامل افراد تعلیمی اداروں میں موجود ہوں گے تو یہ نہ صرف اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ خواتین اساتذہ اور طالبات کے لیے شدید عدم تحفظ اور مسلسل جنسی ہراسگی کے ماحول کو جنم دیتا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات کے دوبارہ پیش آنے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں ۔
زکریا یونیورسٹی کی پروفیسر کو سیکورٹی تھریٹ، نفری فراہم کرنے کا حکم آگیا
دوسری جانب رپورٹ میں ابتدائی تفتیش کرنے والے سب انسپکٹر شان علی پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے تفتیشی فرائض میں مبینہ طور پر دانستہ غفلت برتی اور ملزم کو ناحق فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، جس پر ان کے خلاف سخت محکمانہ ایکشن لینے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ مکمل رپورٹ ایس ایس پی انویسٹیگیشن اور آر آئی بی ملتان کو پیش کی گئی جہاں فریقین کے مؤقف کو تفصیل سے سنا گیا اور شواہد کا جائزہ لیا گیا۔
حکام نے انکوائری کے نتائج سے اتفاق کرتے ہوئے رپورٹ کو آر پی او ملتان کو بھجوا دیا، جس کے بعد کیس کو مزید کارروائی کے لیے دوبارہ متعلقہ تھانے (ڈی ایچ اے) کو منتقل کر دیا گیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ قانون کے مطابق تفتیش مکمل کی جائے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ25 ستمبر 2025 کو بند کمرے میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق ایف آئی آر کے متن کو حالات و واقعات سے تقویت ملتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ ڈی این اے رپورٹ موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق ڈی این اے رپورٹ آتے ہی کیس میں مزید اہم پیشرفت متوقع ہے، جس کے بعد ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کو حتمی شکل دی جائے گی۔
دوسری جانب یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان قادر بھابھہ کو کچھ روز قبل ہی بحال کیاگیا تھا مگر نئی انکوائری رپورٹ نے حالات بدل دیے ہیں جسکے بعدان کو دوبارہ معطل کئے جانے کا امکان ہے ۔




















