Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

میٹرک امتحانات 2026 ؛ ایک لاکھ 34 ہزار امیدواروں کےلئے فول پروف تیاریاں مکمل

کمشنر ملتان و چیئرمین تعلیمی بورڈ ملتان عامر کریم خاں کی زیر صدارت بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان میں میٹرک کے پہلے سالانہ امتحانات 2026 کے شفاف انعقاد کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بورڈ افسران، تعلیمی حکام، فوکل پرسنز اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس میں کمشنر نے ہدایت کی کہ امتحانی عمل کو سو فیصد شفاف، منظم اور کسی بھی اسکینڈل سے پاک بنایا جائے، جبکہ ڈسپلن پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ریزرو سٹاف ہر صورت موجود رکھا جائے اور ڈیوٹی سے انکار کرنے والے اساتذہ کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

کمشنر عامر کریم خاں نے ہدایت کی کہ تمام امتحانی مراکز پر جنریٹرز اور پینے کے صاف پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے، جبکہ بورڈ افسران تمام سنٹرز کا دورہ کریں اور شکایات کے اندراج کے لیے متعلقہ افسران کے رابطہ نمبر نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ “ایک معمولی غلطی بھی پورے نظام کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے ہر افسر ڈیوٹی سے قبل مکمل پلاننگ اور مائیکرو لیول تیاری کو یقینی بنائے۔”

انہوں نے انسپکشن ٹیموں کے لیے الگ ایس او پیز جاری کرنے، تمام ٹیموں کو آفیشل آئی ڈی کارڈز فراہم کرنے اور موبائل اسکواڈز و انسپکٹرز کو واضح ذمہ داریاں دینے کا حکم بھی دیا، جبکہ غیر ضروری موبائل استعمال اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 27 مارچ سے شروع ہونے والے میٹرک امتحانات کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں ایک لاکھ 34 ہزار 50 امیدوار شرکت کریں گے۔

امتحانات کے انعقاد کے لیے مجموعی طور پر 4326 افسران و عملہ تعینات کیا جائے گا، جن میں 3328 انویجیلیٹرز، 532 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس اور 466 سپرنٹنڈنٹس شامل ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ امتحانات کی شفاف نگرانی کے لیے اسپیشل، موبائل اور بورڈ انسپکشن اسکواڈز تشکیل دیے گئے ہیں، جبکہ ڈسٹرکٹ اور تحصیل سطح پر بھی مانیٹرنگ ٹیمیں فعال ہوں گی اور صوبائی، سنٹرل اور ضلعی سطح پر کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں۔

بریفنگ میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ 31 حساس امتحانی مراکز پر بائیو میٹرک حاضری اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی جا رہی ہے، جبکہ سوالیہ پرچوں کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم اور واٹر مارکنگ متعارف کرائی گئی ہے۔

علاوہ ازیں امتحانی عملے کی تعیناتی جدید آٹومیٹڈ سسٹم کے ذریعے کی گئی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button