جامعہ زرعیہ ملتان : سمال پاک پروجیکٹ ورکشاپ کا انعقاد

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں سمال پاک پروجیکٹ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد پنجاب پاکستان میں چھوٹے کاشتکاروں کے لیے پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مضبوط زرعی نظام اور بین الاقوامی اشتراکی منصوبے کا با ضابطہ آغاز کرنا تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ نے ملکی اور بین الاقوامی شرکاء کو خوش آمدید کہا، اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اقدام نہ صرف زرعی شعبے میں جدت لائے گا بلکہ چھوٹے کاشتکاروں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی تحقیق ادارہ جاتی تعاون مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا۔
بین الاقوامی زرعی سائنسدان ڈاکٹر مارٹن ویلپ، ڈاکٹر کرسٹوف راب ،ڈاکٹر مائیکل سپائیز اور مہوش زبیری نے تحقیقی فریم ورک اور مختلف ورک پیکجز کا تعارف پیش کیا جبکہ لمز یونیورسٹی سے ڈاکٹر ابوبکر نے تکنیکی نفاذ کے پہلوؤں پر گفتگو کی۔
اس موقع پر محکمہ واٹر مینجمنٹ محکمہ جنگلات محکمہ زراعت توسیع کے نمائندگان نے پروجیکٹ کے اہم موضوعات پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا۔
واٹر مینجمنٹ کے نمائندگان نے پانی کے موثر استعمال واٹر کورسز کی بہتری اور جدید آبپاشی کے طریقوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔محکمہ زراعت توسیع کے نمائندگان نے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی فصلوں جدید زرعی مشینوں اور کاشتکاروں کی استعداد کار بڑھانے پر بات کی۔
محکمہ جنگلات کے نمائندگان نے ماحولیاتی بہتری شجر کاری اور ایگرو فارسٹری کے فروغ کو موسمیاتی لچک کے لیے اہم قرار دیا۔محکمہ لائیو سٹاک کے نمائندگان نے مویشیوں کی بہتر دیکھ بھال چارہ مینجمنٹ اور متبادل آمدنی کے ذرائع کو دیہی معیشت کی مضبوطی کے لیے ضروری قرار دیا۔
تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الادارہ جاتی تعاون کمیونٹی کی شمولیت اور شواہد پر مبنی حکمت عملیوں کے ذریعے ہی اس پروجیکٹ کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔


















