Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

تمام سکولوں میں ڈریس کوڈ کی 100 فیصد تعمیل کو یقینی بنانے کا حکم

محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے بھر کے تمام سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں ڈریس کوڈ کی سو فیصد تعمیل کو یقینی بنانے کا حکم جاری کر دیا ہے، جس میں طلبہ، اساتذہ اور خصوصاً درجہ چہارم کے تمام ملازمین (چوکیدار، صفائی کارکنان، مالی، ڈرائیور وغیرہ) کو مناسب اور متعینہ یونیفارم پہننے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

جاری کردہ احکامات کے مطابق ہر سکول کے لیے لازم ہوگا کہ طلبہ کا یونیفارم سکول مینجمنٹ کمیٹی کی منظور شدہ رنگ اور ڈیزائن کے مطابق ہو، اساتذہ با ضابطہ لباس (شلوار قمیض یا کوٹ ٹائی) میں سکول آیا کریں، اور درجہ چہارم کے ملازمین کو ان کے فرائض کے مطابق علیحدہ یونیفارم جاری کیا جائے جو صاف ستھرا، فٹنگ اور پہچان میں آسان ہو۔

محکمہ نے واضح کیا ہے کہ درجہ چہارم کے ملازمین کا یونیفارم چوکیداروں کے لیے خاکی وردی، صفائی کارکنان کے لیے نیلا یا سرمئی سادہ سوٹ/شلوار قمیض، اور مالیوں کے لیے سبز رنگ کے لباس پر مشتمل ہو سکتا ہے، تاہم ہر سکول کی انتظامیہ اپنے وسائل کے مطابق مستقل تھیم اپنا سکتی ہے۔

محکمہ سکول ایجوکیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈریس کوڈ کا نفاذ نہ صرف سکول کے نظم و ضبط کو بہتر بناتا ہے بلکہ سکول کے تمام ملازمین میں یکسانیت، شناخت اور عزت کا احساس بھی پیدا کرتا ہے، خاص طور پر درجہ چہارم کے ملازمین کو جب وردی دی جاتی ہے تو انہیں اپنے پیشے پر فخر ہوتا ہے اور وہ زیادہ محنت سے کام کرتے ہیں۔

تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں فوری طور پر تمام سکولوں کا معائنہ کریں، جن سکولوں میں درجہ چہارم کے ملازمین کو یونیفارم فراہم نہیں کیا گیا ہے انہیں 15 دن کا نوٹس دیا جائے اور اس دوران یونیفارم مہیا کرنے میں ناکامی پر متعلقہ سکول ہیڈ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس کے علاوہ ہر سکول کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ طلبہ کے والدین کو ڈریس کوڈ کے حوالے سے آگاہ کیا جائے اور کسی بھی طالب علم کو بغیر مناسب یونیفارم کے سکول آنے کی اجازت نہ دی جائے، البتہ انتہائی مستحق بچوں کو سکول یونیفارم فراہم کرنے کے لیے زکوٰۃ، بیت المال اور دیگر فلاحی فنڈز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

محکمہ نے تمام پرائیویٹ سکولوں کو بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ بھی ان ہدایات کی پابندی کریں ورنہ ان کا رجسٹریشن منسوخ کر دیا جائے گا۔ اساتذہ کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ خود بھی مناسب لباس میں سکول آئیں اور طلبہ اور عملے کو بھی ڈریس کوڈ کی پابندی کروائیں۔ محکمہ نے یہ بھی کہا ہے کہ درجہ چہارم کے ملازمین کی وردی کا خرچہ سکول کے سالانہ بجٹ میں شامل کیا جائے اور کوئی بھی سکول اس بنیاد پر ملازمین سے کوئی رقم نہیں لے سکتا۔ ہر سکول کو ڈریس کوڈ کی تعمیل کی تصدیق کے لیے ایک سرٹیفکیٹ محکمہ کو جمع کرانا ہوگا جس میں تمام طلبہ، اساتذہ اور درجہ چہارم ملازمین کے یونیفارم کی صورتحال واضح ہو۔

خیال رہے کہ اس سے قبل متعدد رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سکولوں میں درجہ چہارم کے ملازمین بغیر کسی خاص وردی کے عام کپڑوں میں کام کرتے ہیں جس سے ان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے اور سکول کا نظم و ضبط متاثر ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button