Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

آن لائن ایس ٹی آئی ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنانے کا حکم؛ دستی و آن لائن ریکارڈ میں تضاد پر فوری اطلاع دینا لازمی قرار

محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے بھر کے تمام اضلاع میں موجود اسکول ٹیچر انفارمیشن سسٹم پر آن لائن ڈیٹا کی مکمل درستگی کو یقینی بنانے کا حکم جاری کر دیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ دستی ریکارڈ اور آن لائن ڈیٹا کے درمیان کسی بھی قسم کے تضاد کی فوری طور پر اطلاع متعلقہ اعلیٰ افسران کو دی جانی چاہیے۔

جاری کردہ احکامات کے مطابق تمام ہیڈ ماسٹرز، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے سکولوں اور دفاتر میں موجود اساتذہ، عملے اور دیگر اہلکاروں کے حوالے سے تمام معلومات جیسے نام، والد کا نام، تاریخ پیدائش، تعلیمی اسناد، تقرری کی تاریخ، موجودہ تعیناتی، اور تنخواہ کی تفصیلات کو ایس ٹی آئی پورٹل پر بغیر کسی غلطی کے درج کریں۔

محکمہ نے واضح کیا ہے کہ دستی ریکارڈ جو کہ اصل فائلوں اور سروس بکس پر مشتمل ہے، آن لائن ڈیٹا کا بنیادی ماخذ ہوگا، اور دونوں میں کسی بھی قسم کا فرق ملازمین کے کیریئر، پروموشن، تنخواہ اور ریٹائرمنٹ فوائد میں سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

محکمہ سکول ایجوکیشن کے ترجمان نے بتایا کہ حالیہ آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد اضلاع میں آن لائن ایس ٹی آئی ڈیٹا اور دستی ریکارڈ میں نمایاں تضادات پائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے کئی اساتذہ کو ان کی صحیح تنخواہ اور دیگر مراعات سے محروم رہنا پڑا ہے۔ اس مسئلے کے فوری حل کے لیے تمام سکولوں اور دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنے تمام ملازمین کا دستی ریکارڈ چیک کریں اور اسے آن لائن پورٹل سے ملائیں جہاں کہیں بھی تضاد پایا جائے، وہاں فوری طور پر ایک تفصیلی رپورٹ بذریعہ ای میل اور دستخط شدہ درخواست متعلقہ ڈی ای او اور سی ای او کو جمع کرائی جائے، جس کے بعد محکمہ کی مرکزی ٹیم اس تضاد کو حل کرے گی۔

تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں ایک مانیٹرنگ سیل قائم کریں جو ہر ماہ کم از کم پانچ سکولوں کے ایس ٹی آئی ڈیٹا کا دستی ریکارڈ سے کراس چیک کرے اور اس کی رپورٹ محکمہ کو بھیجے۔ اس کے علاوہ ہر ہیڈ ماسٹر کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے سکول کے تمام اساتذہ کے ایس ٹی آئی ڈیٹا کو ان کی ذاتی دستخطوں سے تصدیق شدہ کیا جائے اور کسی بھی غلط ڈیٹا کی ذمہ داری متعلقہ ہیڈ ماسٹر کی ہوگی۔

محکمہ نے یہ بھی کہا ہے کہ آن لائن اور دستی ریکارڈ میں تضاد کی صورت میں اس کی اطلاع دینے والے افسر کو تحفظ فراہم کیا جائے گا اور جان بوجھ کر غلط ڈیٹا داخل کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں ملازمت سے برطرفی تک کا امکان ہے۔

تمام چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اپنے اپنے ضلع کے تمام سکولوں کے ایس ٹی آئی ڈیٹا کی درستگی کی سرٹیفیکیشن محکمہ کو جمع کرائیں، اور اس دوران جو بھی تضادات رپورٹ ہوں انہیں فوری طور پر حل کیا جائے۔

س سلسلے میں ایک ڈیسک بھی قائم کیا ہے جہاں اساتذہ اور افسران اپنے ڈیٹا سے متعلق کسی بھی مسئلے کی اطلاع دے سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button