پیف کے زیر انتظام چلنے والے سکولوں کی ریگولر مانیٹرنگ نظام تعلیم کا اہم حصہ ہے۔ ترجمان

ترجمان پیف کی طرف سے وضاحت کی گئی ہے کہ پیف کے زیر انتظام چلنے والے تمام سکولوں کی ریگولر مانیٹرنگ پیف بورڈ سے منظور شدہ تعلیمی پالیسی کا حصہ ہے، اور سکولوں کی ماہانہ ادائیگی ریگولر مانیٹرنگ سے مشروط ہے، نیز ہر پیف سکول معاہدہ شراکت داری کی رو سے اپنے طلباء، سکول کی عمارت اور تعلیمی فضاء کی جانچ پرکھ کے لیے مانیٹرنگ کروانے کا پابند ہے۔
ترجمان پیف نے بتایا کہ عبدالوہاب خان پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا پارٹنر نہیں ہے تاہم اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے عبدالوہاب پیف پارٹنرز کو گمراہ کن بیانا ت کے ذریعے مانیٹرنگ کے خلاف اکسا رہا ہے۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ 9 اگست سے ریگولر مانیٹرنگ کا آغاز کیا گیا تھا ش اور اب تک 512 پارٹنر سکولوں کی مانیٹرنگ احسن انداز میں مکمل ہو چکی ہے ، جبکہ آج کے دن مزید 253 سکولوں کی مانیٹرنگ مکمل کر لی جا ئے گی۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ پیف پارٹنرز نے بائیکاٹ کی اس مذموم کوشش کو یکسر رد کر دیا ہے اور صرف سات سکول مالکان ایسے ہیں، جنہوں نے مانیٹرنگ کروانے سے انکار کیا ہے۔ جبکہ باقی تمام سکول مانیٹرنگ کے عمل میں جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پیف سکولوں کو ماہانہ ادائیگی ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی فیس کی بابت ادا کی جاتی ہے۔ مانیٹرنگ کا بنیادی مقصد ان بچوں کے کوائف اور معاہدہ شراکت داری کے تحت سکول میں فراہم کی گئی تعلیمی سہولیات کی تصدیق ہے تاکہ سرکاری پیسے کا شفاف اور صحیح استعمال ممکن بنایا جا سکے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ جو پارٹنر سکول شر پسند عناصر کے بہکاوے میں آکر مانیٹرنگ کروانے سے انکار کرے گا پیف انتظامیہ اس سکول مالک کے خلاف پیف قوانین کے مطابق سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائے گی۔
یاد رہے کہ عبد الوہاب خان کا تعلق حکومت مخالف سیاسی دھڑوں سے ہے اور پیف کی جاری مانیٹرنگ مہم کو متنازعہ بنانے کے پیچھے اس شخص کے اپنے مذموم سیاسی مقاصد ہیں۔
جبکہ اسے ماضی میں بھی پیف کے معاملات میں بیجا دخل اندازی سے باز رہنے کی تنبیہ کی جاتی رہی ہے۔ چنانچہ پیف انتظامیہ نے اپنے تمام پارٹنرز سے گزارش کی ہے کہ اس سیاسی شخص اور اس جیسے دوسرے سازشی عناصر کی باتوں میں ہر گز نہ آئیں۔




















