Breaking NewsEducationتازہ ترین
پاکستان نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر اپنی پالیسی واضح کر دی

اشرف غنی کے ملک سے فرار اور طالبان کے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پاکستان نے پالیسی بیان جاری کر دیا ہے۔
پالیسی بیان وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔
اجلاس میں مسلح افواج کےسربراہان شریک ہوئے، جس میں خطےکی تازہ صورتحال اورعلاقائی سیکیورٹی کاجائزہ لیاگیا۔
اجلاس کے شرکاء کو افغانستان اور کابل کی صورتحال پربریفنگ دی گئی، شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنےہمسایہ ممالک میں امن واستحکام چاہتا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں سیاسی سرگرمیوں پر زور دیتا ہے۔
افغانستان میں تمام فریقین قانون کی بالادستی کاخیال رکھیں۔پاکستان افغانستان میں عدم مداخلت کے اصول پرقائم رہےگا۔
اعلامیہ کے مطابق افغانستان کی سرزمین کسی اورملک کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے یقینی بنائیں افغان سرزمین کوئی دہشت گردتنظیم استعمال نہ کرے اور فریقین تمام افغانوں کےبنیادی انسانی حقوق کاتحفظ کریں۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدرکی فوجی انخلاکےفیصلےکی توثیق درحقیقت تنازع کامنطقی نتیجہ ہے دنیا کو چار دہائیوں کےدوران پاکستان کی قربانیوں کوتسلیم کرناچاہیے، پاکستان افغانستان میں کئی دہائیوں سےجاری تنازع کاشکا رہے۔
پاکستان افغانستان میں امن اوراستحکام کاخواہاں ہے عالمی برادری،افغان اسٹیک ہولڈرزکیساتھ سیاسی تصفیےکیلئےکام جاری رکھیں گے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں عدم مداخلت کے اصول پرقائم رہےگا۔ افغانستان سے پاکستانیوں، سفارتکاروں،صحافیوں کو نکالنے کیلئےاقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس میں پاکستانی سفارتخانےکی کوششوں کوسراہاگیا، وزیراعظم نےپاکستانی سفارتخانےاورریاستی مشینری کی جاری کوششوں کو سراہا۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان کےموقف کودہرایاگیاکہ افغان مسئلےکاکوئی فوجی حل نہیں، عالمی برادری طویل مدتی امن، سلامتی اورترقی کیلئےمل کرکام کرے۔




















