پاکستانی خواتین روایت کےساتھ نئی دنیا کے تقاضے پورے کےلئےتیار : ڈاکٹر عظمیٰ قریشی
ویمن یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ہماری خواتین اب روایت کے ساتھ ساتھ نئی دنیاکا ساتھ دینے کےلئےتیار ہے، وہ آج ناصرف تعلیم بلکے تمام شعبوں میں کلیدی عہدوں پر اپنےفرائض احسن طریقے سے ادا کررہی ہے اور وہ کسی طور مرد سے کم نہیں۔
وہ برٹش کونسل کے شعبہ ایجوکیشن کے ایک وفد سے ملاقات میں گفتگو کررہی تھیں، جس کی سربراہی برٹش کونسل کے ہائرایویجوکیشن اور سکلز کےشعبے کی چیئرپرسن سارہ پرویز نے کی۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا کہنا تھاکہ مشرقی معاشرے میں خواتین پر بڑی پابندیاں ہیں، ان کواپنی تعلیم ،نوکری کےساتھ ساتھ گھرکی ذمےداریوں کو بھی ٹائم دینا پڑتا ہے، اس لئےہم دیکھتے اہم پوسٹوں پرکام کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں کےمقابلے میں کم ہے، تاہم ہرگزرتے دن کےساتھ یہ تعداد بڑھ رہی ہے ،جو ہماری خواتین کی روشن خیالی اور آگے بڑھنے کی لگن کوثابت کرتی ہے ۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سارہ پرویز نے کہا کہ تعلیمی معیار اور کوالٹی ریسرچ کو برقرار رکھنے میں خواتین یونیورسٹیاں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ استاد کا کردار طالبات کے لیے مشعل راہ ہے ، جس پر چل کر وہ عملی زندگی کے ہر میدان میں خود کو منوا سکتی ہیں ۔
سارہ پرویز نے حاضرین کو برٹش کونسل کے تحت جارہی تمام منصوبوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی، اور بتایا کہ کس شعبے میں خواتین اپنا مرکزی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ برٹش کونسل کا مقصد اپنے تمام ہائر ایجوکیشن پروگراموں میں خواتین کی شرکت کو بڑھانا ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر سارہ مصدق نے بتایا کہ QEC کے زیر اہتمام یونیورسٹی میں "ایمپلائی ابلتے” سروے کروایا گیا ، جس کے نتائج کے مطابق تقریباً 80 سے 90 مفید طالبات مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
رجسٹرار ڈاکٹر قمر رباب نے کہا کہ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ طالبات کی تربیت اور سلف گرومنگ پر بھی خصوصی توجہ دی رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہے کیونکہ نوجوان زندگی کی ذمہ داریوں کو بھرپور قوت کے ساتھ ایکسپلور کرتے ہیں۔اس موقع پر تمام شعبوں کی چیئرپرسن اور ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔



















