زکریا یونیورسٹی کے رجسٹرار کی کرم نوازیاں
یونیورسٹی کو ماہانہ لاکھوں کاٹیکہ

زکریا یونیورسٹی کے رجسٹرار کی کرم نوازیاں،،،یونیورسٹی کو ماہانہ لاکھوں کاٹیکہ،
زکریا یونیورسٹی کے افسروں کی آشیر باد سے کام چور عملے کی شہنشاہی ہوگئی ،رجسٹرار آفس ایسے عملے کا گڑھ بن گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو یونیورسٹی خساے کا رونا رو رہی ہے دوسری طرف افسر من پسند عملے کو نواز رہے ہیں جس کی مثال رجسٹرار آفس ہے ، قانون کے مطابق رجسٹرار آفس کو ایک پی ایس ، ایک کلرک اوور ٹائم لے سکتا ہے مگر رجسٹرار آفس میں ایک سینئر پی ایس کے ساتھ ایک پی ایس گل شاہ، کلرک فیاض او ر فیصل نے رجسٹرار کی آشیر باد سے اوور ٹائم کی مد میں 35ہزار روپے ماہانہ لیتے رہے پھر فیصل کی ترقی ہوئی تو اس کو ایڈجسٹ کرنے کےلئے ایک بار پھر کھیل کھیلاگیا ،ترقی کے بعد تبادلہ بطور پی ایس رجسٹریشن برانچ میں کردیا گیا۔
جبکہ علیم سٹینو کو اکیڈ میں ٹرانسفر کردیا گیا اب ہر ماہ سینئر پی ایس علی اعوان کی مدد سے 35ہزار کا اوور ٹائم لیا جارہا ہے جو قطعی طور پر غیر قانونی ہے۔
اس بہتی گنگا میں فیاض نامی کلرک بھی ہاتھ دھورہا ہے اور ماہانہ 25ہزار روپے اوور ٹائم لیتا ہے جبکہ وہ آفس میں موجود بھی نہیں ہوتا، جبکہ وہ آٖفس ورک شام چار بجے سے رات 8 بجے تک کرتا ہے یہ بات سب کو معلوم ہے کہ شام چار بجے کے بعد کوئی بھی آفس کھلا نہیں ہوتا، جبکہ فیاض کو ہفتہ اتوار کی چھٹی کے روز بھی اوور ٹائم دیا جارہا ہے ۔
یہ سب کس کے اشارے پر ہورہا ہے وائس چانسلر بھی بے بسی کی تصویر بنے نظر آرہے ہیں اور یونیورسٹی خزانہ اسی طرح لٹایا جارہا ہے ۔


















