کابل ایئرپورٹ دھماکوں سے گونج اٹھا، دنیا لرز گئی،13 افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ائیرپورٹ کے قریب یکے بعد دیگرے دو زور دار دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں13 افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مرنے والو ں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیںز جب کہ دھماکے میں طالبان محافظ بھی زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے باہر ’ایبےگیٹ‘ پر دھماکاہوا ہے، دھماکے سے متاثر ہونے والوں میں امریکی اور افغان شہری شامل ہیں،جبکہ افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے قریب 2 دھماکوں میں 52 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان کابل ائیرپورٹ پر دھماکے کی مذمت کرتی ہے، دھماکے کے مقام کی سکیورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں تھی، امارت اسلامیہ اپنے لوگوں کی حفاظت اور تحفظ پر بھر پور توجہ دے رہی ہے، شر پسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا دعویٰ ہے کہ دھماکا کابل ائیرپورٹ کے مرکزی دروازے ’ایبے گیٹ‘ پر ہوا، جہاں گزشتہ 12 روز سے ہزاروں افراد ملک سے نکلنے کے لیے جمع ہیں۔
جبکہ ایک اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ دھماکا گیٹ کے قریب واقع ’بیرن ہوٹل‘ کے پاس ہوا، جسے مغربی ممالک انخلا کے آپریشن کے لیے استعمال کررہے تھے۔
جبکہ افغان میڈیا میں یہ بات گردش کرتی رہی کہ دھماکے کے وقت ائیرپورٹ سے متصل نالے میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو کہ وہاں اپنے کاغذات کی جانچ پڑتال کرانا چاہ رہے تھے، عینی شاہدین کے مطابق اس دوران ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ ایک اور حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی۔
ترک وزارت دفاع کاکہنا ہے کہ ائیرپورٹ پر موجود ترکی کے فوجیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔
دھماکوں کے بعد امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کی اپنے شہریوں کو پیشگی احتیاط کی ہدایت کی ہے تینوں ممالک کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ دہشت گرد حملے کا خدشہ ہے، لہٰذا شہری کابل ائیرپورٹ سے دور رہیں۔
برطانوی حکام کی جانب سے اپنے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ جو شہری کابل ائیر پورٹ کے علاقے میں ہیں، وہ نکل کر کسی محفوظ مقام پر چلے جائیں، برطانوی شہری کسی اور ذرائع سے افغانستان سے نکل سکتے ہیں تو فوری نکل جائیں۔


















