نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے 20 رکنی قومی ون ڈے اسکواڈ کا اعلان

قومی کرکٹ کے سلیکٹرز نے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کے لیے 20 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلی جائے گی۔ سیریز میں شامل تینوں میچز آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ سپر لیگ کا حصہ ہیں۔ یہ میچز 17، 19 اور 21 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
اعلان کردہ 20 رکنی اسکواڈ میں مڈل آرڈر بیٹسمین خوشدل شاہ اور افتخار احمد کی واپسی ہوئی ہے، جبکہ نوجوان فاسٹ باؤلرز شاہنواز دھانی،محمد وسیم جونیئر ، محمد حارث اورزاہد محمود کو پہلی مرتبہ قومی ون ڈے اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
انگلینڈ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں شرکت کرنے والے حارث سہیل، سلمان علی آغا، سرفراز احمد اور صہیب مقصود نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں جگہ نہیں بناسکے۔
پاکستان ون ڈے انٹرنیشنل اسکواڈ میں بابراعظم (کپتان) ( سینٹرل پنجاب)، شاداب خان(نائب کپتان) (ناردرن)، عبداللہ شفیق( سینٹرل پنجاب)، امام الحق (بلوچستان)، فخر زمان(خیبرپختونخوا)، فہیم اشرف (سینٹرل پنجاب)، خوشدل شاہ(سدرن پنجاب)، افتخار احمد(خیبرپختونخوا)، حارث رؤف (ناردرن)، حسن علی (سینٹرل پنجاب)، محمد حارث(وکٹ کیپر) (خیبرپختونخوا)، محمد رضوان (وکٹ کیپر) (خیبرپختونخوا)، محمد حسنین (سندھ)، محمد نواز( ناردرن)،محمد وسیم جونیئر (خیبرپختونخوا)، سعود شکیل (سندھ)، شاہین شاہ آفریدی (خیبرپختونخوا)، شاہنواز دھانی (سندھ)، عثمان قادر (سینٹرل پنجاب) اور زاہد محمود (سدرن پنجاب) شامل پیں۔
قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹرمحمد وسیم کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز پر مشتمل یہ سیریز ہمارے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈکپ 2023 کوالیفائرز کا بھی حصہ ہے، لہٰذا ہم نےنمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو منتخب کرکے ایک متوازی اسکواڈ کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے مزیدکہا کہ بدقسمتی سے شاہنواز دھانی کو لاجسٹک مسائل کی وجہ سے ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 میں عمدہ کارکردگی کے باوجود انگلینڈ کے لیے اسکواڈ میں جگہ نہیں مل سکی تھی تاہم انہیں اب نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔
محمد وسیم نے کہا کہ محمد رضوان ہمارے فرسٹ چوائس وکٹ کیپر ہیں، لہٰذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرفراز احمد کی جگہ 20 سالہ محمد حارث کو اسکواڈ میں شامل کیا جائے ، ا س سے نہ صرف محمدحارث کو ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا صلہ ملے گا بلکہ انہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم کے ماحول میں وقت گزارنے کا موقع بھی ملے گا۔



















