کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں احتجاج کے باوجود تنخواہیں نہ مل سکی : ملازمین کے گھروں میں فاقے

چوہدری پرویز الہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پی ایم اے کے احتجاج کے باوجود ملازمین کو تنخواہیں نہ مل سکیں ، جس کے نتیجے میں ہسپتال سے منسلک درجہ چہارم کے ملازمین شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، اور ان کے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ۔
ایک وارڈ بوائے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ احتجاج کرنے والوں کو دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، اس نے بتایا کہ یہ صورت حال ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی عدم موجودگی اور ڈی ڈی پاورز کسی کے پاس نہ ہونے کے باعث پیدا ہوئی ہے ۔ ہمیں 45 روز قبل عید سے پہلے آخری تنخواہ ملی تھی ۔ آپ خود اندازہ کر لیں کی اب ہمارا کیا حال ہو گا ۔
واضح رہے کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاعہدہ گزشتہ تین ہفتوں سے خالی ہے، اور سابق ای ڈی وائس چانسلر نشتر ہسپتال کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد یہ عہدہ بھی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، اور ابھی تک اس عہدے کا چارج بھی انہوں نے نہیں چھوڑا جس کے باعث انتظامی و مالی معاملات ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں ۔
اس حوالے سے کارڈیالوجی سینٹر کا ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا ۔
کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین نے وزیراعلی پنجاب سمیت دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سب سے سینئر ڈاکٹر کی اس عہدے پر تعیناتی کی جائے تاکہ ادارے کے معاملات احسن طریقے سے چل سکیں ۔
ذرائع کے مطابق ایک صوبائی وزیر کی مداخلت کے باعث یہ تقرری کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے۔
بعض ذرائع کے مطابق آئندہ ماہ کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں مختلف منصوبوں کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کے ٹینڈر ہونے ہیں جس کے باعث کرپٹ مافیا یہ تقرری نہیں ہونے دے رہا تاکہ ان ٹینڈروں سے کمیشن حاصل کیا جاسکے۔



















