پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے:ڈاکٹر عظمیٰ قریشی

ویمن یونیورسٹی ملتان میں یوم دفاع کے سلسلے میں تقریب منعقد ہوئی ۔
جس کی میزبانی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کی، جبکہ مہمان خصوصی سکواڈرن لیڈر بلال خان تھے ۔
وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ 6 ستمبر 1965 ہماری عسکری تاریخ کا انہتائی اہم ترین دن ہے ،یہ دن ہمیں جنگ ستمبر کی ان دنوں کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم نے بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی آزادی اور قومی وقار کا دفاع کیا تھا۔
اس دن بہادر پاکستانی شہریوں نے اپنی مسلح افواج کے ساتھ یکہجتی کا بے مثال مظاہرہ کیا ، اور یہ جنگ پاکستانی اور مسلح افواج کی وہ مشترکہ جدوجہد تھی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کا کام کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ درحقیقت 6 ستمبر قومی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
آج کا دن ہمیں اپنے بزرگوں، شہدا ، عظیم رہنماؤں اور غازیوں کی لازوال قربانیوں اور انکے مقاصد کی یاد دلاتا ہے ، ہم ان کے جذبوں اور ولولوں پر انہوں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
سکوارڈن لیڈر بلال خان کا کہنا تھا کہ 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں جہاں پاکستان کی بری اور بحری افواج نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔، وہیں پاک فضائیہ کا کردار بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
6 ستمبر 1965ءکو جنگ کے پہلے ہی دن، پاک فضائیہ نے بری فوج کے دوش بدوش بڑا اہم کردار ادا کیا، اور پٹھان کوٹ، آدم پور ، اور ہلواڑہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے دشمن کے 22 طیارے اور متعدد ٹینک، بھاری توپیں اور دوسرا اسلحہ تباہ کیا۔
لیکن جنگ کا اگلا دن، یعنی 7 ستمبر 1965ءکا دن تو پاک فضائیہ ہی کا دن تھا۔ 7 ستمبر 1965، پاکستان میں یہ دن یوم فضائیہ کے نام سے منایا جاتا ہے۔
1965 کی جنگ میں اس روز پاک فضائیہ نے دشمن کو ایسی دھول چٹائی جس نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔
7 ستمبر 1965 کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جنگی طیاروںکو تباہ کرکے عالمی ریکارڈ بنانے والے اسکورڈن لیڈر ایم ایم عالم کے کارنامے زندہ و جاوید اوریوم فضائیہ کا خاصہ ہیں۔
جنگ کے ہیرو اسکورڈن لیڈر محمد محمود عالم نے دشمن کے9 جنگی طیارے مار گرائے، جن میں پانچ لڑاکا طیارے تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تباہ کیے۔
بہادری کے صلے میں دو بار ستارہ جرات سے نوازاگیا۔
تقسیم کے وقت رائل ائیرفورس آف پاکستان کے پاس 122 جہاز اور 2232 افسر اور جوان تھے۔پاک فضائیہ نے وسائل کی کمی کا مقابلہ اچھی ٹریننگ سے کیا۔ 23 مئی 1965ءکو رائل ائیرفورس آف پاکستان پاکستان ائیر فورس بن گئی۔
نورخان نے پاک فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جس نے 1965ءمیں بھارتی فضائیہ کے بخیئے اُدھیڑ دیئے، چین کی مدد سے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کی تعمیر ایک بڑی کامیابی تھی۔
یہ دن ہمیں اس چیز کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح جنگِ ستمبر کے دوران ہمارے جاں باز دلیر شاہینوں نے دشمن کے حملے کو پسپا کر کے وطن عزیز کی آن بان اور شان کو قائم رکھا۔
تقریب کا اہتمام ڈی ایس اے ڈاکٹر عدلیہ سیعد نے کیا مقررین نے شہداء کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے اپنی مادر وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
پاکستان کے عوام ہمیشہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔اس موقع پر رجسٹرار ڈاکٹر قمر رباب ڈاکٹر سعدیہ ارشاد اور دیگر فیکلٹی ممبران بھی موجود تھیں۔



















