Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

میجر مضامین رکھنے کا جھگڑا: زکریا یونیورسٹی کے اساتذہ کے درمیان گالیوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے

زکریا یونیورسٹی میں ہرروز کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ یہ خبروں کی زینت بن جاتی ہے، اس بہتی گنگا میں طلباء کے ساتھ ساتھ ٹیچر بھی پورا ساتھ دیتے ہیں۔
اس معاملے کو ہی لے لیں کہ زکریا یونیورسٹی کے زرعی کالج کے طلبا کی طرف سے میجر مضامین رکھنے پر رواں برس بھی اساتذہ میں جھگڑا ہوگیا۔
سینڈیکیٹ کے فیصلے کی روشنی میں زرعی کالج کے طلباء جو چوتھا سمسٹر پاس کرلیتے ہیں ، اپنی مرضی سے میجر مضامین رکھ سکتے ہیں جس پر 58طلبا نے فوڈ سائنسز ، 43 نے ایگرانومی، 32نے انٹامالوجی، 11 نے پلانٹ پتھالوجی ، تین نے ہارٹی کلچر، تین نے پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینٹکس اور تین نے فارسٹری، اور ایک نے سوئل سائنسز کامضمون اختیار کیا ، جبکہ ایوننگ کلاسز کے طلباء کو وائس چانسلر کی خواہش پر برابر پر تقسیم کردیا گیا ۔
لیکن کم طلباء والے شعبہ کے اساتذہ نے وائس چانسلر کو شکایات کردیز جس پر انہوں نے معاملہ بیٹھ کر حل کرنے کو کہا ،جس پر اجلاس طلب کیا گیا ،جس میں ڈین ڈاکٹر حکومت علی ، ڈاکٹر سعید اختر، ڈاکٹر اکبر انجم اور دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں طلبا کی تقسیم ایوننگ کلاسز کی طرز پر کرنے کا دباؤ ڈالا گیا تو ڈاکٹر سعید اور ڈاکٹر حکومت نے اس کو سینڈیکٹ کی فیصلے کی خلاف ورزی کہا اور کہا کہ ایوننگ کلاسز کے طلباء کے ساتھ بھی ظلم کیا گیا ہے ان کو ان کی پسند کا حق نہیں دیا، جس پر ڈاکٹر اکبر انجم کی طرف سے ڈین ڈاکٹر حکومت پرالزام لگایا گیا کہ ان کی وجہ سے حالات خراب کئے جارہے ہیں اور طلبا کو مس گائیڈ کیا جارہا ہے ، جواب میں ڈاکٹر حکومت کا کہنا تھا کہ ان کے رویوں کی وجہ سے طلبا پریشان اور متنفر ہیں، طلبا ان شعبوں میں جانا ہی نہیں چاہتے، بدانتظامی کی وجہ سے ان کی شعبے برباد ہورہےہیں۔
جس پر ڈاکٹر اکبر انجم کی طرف سے گالی آنے کی دیر تھی پھر گالیوں کا طوفان برپا ہوگیا، شائستگی کا دامن کس نے سنبھالنا تھا کس کو یاد نا رہا، ایک دوسرے کے اہل خانہ سے لیکر ، ہیرا منڈی اور ایک دوسرے کے کرداروں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے اس کی لپیٹ میں وائس چانسلر کو بھی لیا گیا، ان کی شان میں بھی یاواگوئی کے قصیدے پڑھ دئے گئے ، پھر اجلاس بغیر فیصلہ کئے یوں اختتام پذیر ہو ا کہ اس معاملے پر پھر ملیں گے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button